کارپوریٹرس کو ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ کے مساوی مراعات کی مساعی
حیدرآباد۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے پاس تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے فنڈس نہیں ہیں جس کے سبب بلدی عملہ خدمات انجام دینے کے لئے تیار نہیں ہے اور جی ایچ ایم سی کی جانب سے کارپوریٹرس کو ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمان کے مساوی مراعات کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام 150کارپوریٹرس اور 5 نامزد کو آپشن ارکان کاانشورنس کروایاجائے اور ان کے ساتھ ان کی بیوی اور دو بچوں کے علاوہ دیگر دو جن کی ذمہ داری کارپوریٹرس پر عائد ہے ان کا انشورنس کروایاجائے گا۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سالانہ 1.5 کروڑ سے 2کروڑ تک کے اخراجات کے ذریعہ ان تمام کا انشورنس کروایا جائے گا اور اس انشورنس کی صورت میں اگر کارپوریٹریا جن لوگوں کا انشورنس کروایا گیا ہے ان میں سے کسی کی موت واقع ہوتی ہے تو ان کے افراد خاندان کو 5لاکھ روپئے انشورنس کمپنی کی جانب سے ادا کئے گئے جائیں گے۔ جی ایچ ایم سی میں منتخب ہونے والے بعض کارپوریٹرس کا کہناہے جی ایچ ایم سی کی جانب سے انشورنس کا فیصلہ درست ہے اور اس پر عمل آوری کی جانی چاہئے جبکہ کئی کارپوریٹرس کا کہناہے کہ بلدی ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے اور اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے خاطر خواہ فنڈس درکار ہیں جو کہ بلدیہ کے پاس موجود نہیں ہیں۔ اسی لئے جی ایچ ایم سی کو کارپوریٹرس کے مفادات کے تحفظ کے بجائے ملازمین کے مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔جو کارپوریٹرس انشورنس کی حمایت کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ عوام سے مسلسل رابطہ اور عوام کے درمیان رہنے کی صورت میں انہیں کسی بھی طرح کے امراض کا شکار ہونے کا خدشہ ہوتاہے اسی لئے انشورنس کے پریمئیم کی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ادائیگی میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے ۔اس کے علاوہ منتخبہ عوامی نمائندو ںکی جانب سے بلدی عہدیداروں پر لیاپ ٹاپ ‘آئی فون کے علاوہ دیگر الکٹرانک اشیاء کی خریدی اور کارپوریٹرس کو تحفہ دینے کے لئے بھی دباؤ ڈالا جا رہاہے جبکہ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں کچرے کے انبار کی منتقلی کے لئے بلدی عہدیداروں کا کہناہے کہ ناکافی فنڈس اور عملہ کی قلت کے سبب شہر میں صفائی کو یقینی بنانے کے اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔