جے این یو میں ’نان ویج‘ کھانے پر اے بی وی پی کا ہنگامہ

   

نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ اتوار کے روز ہاسٹل میں نان ویج کھانے کے معاملہ پر بائیں بازو کی طلبا تنظیم اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے طلبا کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ بائیں بازو کے طلبا کا الزام ہے کہ اے بی وی پی کے طلبا نے نان ویج کھانے پر اعتراض کرتے ہوئے کاویری ہاسٹل میں میس سکریٹری اور طلبا پر حملہ کیا۔ دوسری طرف، اے بی وی پی کے طلبا نے الزام لگایا کہ بائیں بازو کے طلبا کاویری ہاسٹل میں طلبا کو رام نومی کی پوجا کرنے سے روک رہے تھے۔ اس معاملے پر جے این یو کیمپس میں ایک بار پھر ہنگامہ آرائی ہوئی ۔ بائیں بازو کے طلبا نے الزام لگایا کہ اے بی وی پی کے طلبا نے کاویری ہاسٹل کے میس سکریٹری اور دیگر طلبا پر حملہ کیا۔ اس کے بعد اتوار کی شام دیر گئے بائیں بازو اور اے بی وی پی کے طلبا کے درمیان ایک بار پھر جھڑپ ہوئی۔ اس تصادم میں کچھ طلبا زخمی ہوئے۔ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی صدر آئشی گھوش نے کہا کہ جے این یو میں پرتشدد تصادم ہوا ہے جس میں کچھ طلبا زخمی ہوئے ہیں۔ اے بی وی پی پر جے این یو کیمپس میں غنڈہ گردی کا الزام لگانے والے بائیں بازو کے طلبا نے طلبا سے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔