حامد انصاری کی تشویش اور مرکز

   

Ferty9 Clinic

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند جناب حامد انصاری نے ملک میں پیش آنے والے واقعات پر جو تشویش ظاہر کی ہے اس پر مختلف گوشوں سے مختلف رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ جہاں سماجی جہد کاروں نے اس کو ملک کے تازہ حالات کی تصویر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے وہیں بی جے پی و وشوا ہند پریشد کی جانب سے اس پر تنقید کی جا رہی ہے ۔ حامد انصاری نے یوم جمہوریہ کے موقع پر انڈین امریکن مسلم کونسل اور کچھ دیگر تنظیموں کی جانب سے منعقدہ ورچول پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا ۔ ان کے ساتھ تین امریکی قانون ساز اور اداکارہ سوارا بھاسکر بھی موجود تھیں۔ جناب حامد انصاری کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں ہم نے ایسے رجحانات اور طرز عمل دیکھے ہیں جو پہلے سے موجود قوم پرستی کے اصولوں کے مغائر ہیں ۔ حامد انصاری کا سب سے اصل ریمارک یہ تھا کہ آج سیاسی اکثریت کو مذہبی اکثریت اور غلبہ کے طور پیش کیا جا رہا ہے اور یہ اچھی علامت نہیں ہے ۔ جناب حامد انصاری ملک کے دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں اور انہوں نے بحیثیت نائب صدر جمہوریہ ہند خدمات انجام دی ہیں ۔ انہوں نے حالیہ عرصہ میں ملک کے موجودہ حالات پر جو تبصرے کئے ہیں وہ ہوسکتا ہے کہ برسر اقتدار گروپ کیلئے سازگار نہ ہوں لیکن انہوں نے ملک میں پیش آنے والے حالات کی عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ آج ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہندوستان میں چند مٹھی بھر جنونی کیفیت رکھنے والے گوشے منافرت پھیلانے کی انتہاء کر رہے ہیں۔ حکومت سے اتفاق نہ رکھنے اور اس پر تنقید کرنے والوں کو ملک و قوم کا غدار قرار دیا جا رہا ہے اور ان پر غداری جیسے سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں رہی تھی ۔ ماضی میں بے شمار مثالیں موجود ہیں جب حکومت اور اس کی پالیسیوں سے اختلاف کیا گیا تھا اور اس کے خلاف احتجاج کئے گئے اور باضابطہ مہم بھی چلائی گئی تھی لیکن کبھی بھی حکومت سے اختلاف کو غداری سے تعبیر نہیں کیا گیا تھا ۔ آج یہ ایک روایت بن گئی ہے کہ اگر حکومت سے اختلاف کیا جائے تو پھر غدار اور قوم مخالف کا لیبل لگادیا جاتا ہے ۔
گذشتہ دنوں ایک دھرم سنسد کے نام سے اجلاس منعقد ہوا جس میں کھلے عام مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کہی گئی ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف ہندو برادری کو ورغلاتے ہوئے انہیں ہتھیاروں کا ذخیرہ کرنے کو کہا گیا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف حد درجہ نفرت پھیلائی گئی ہے ۔ ایسے واقعات ماضی میں کبھی پیش نہیں آئے ہیں۔ سماج میں کسی مسئلہ پر اختلاف رائے ہمیشہ پایا گیا ہے لیکن کسی ایک مخصوص طبقہ کی نسل کشی کیلئے دوسرے طبقہ کو کبھی اکسانے کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ آج افسوس اس بات کا ہے کہ بابائے قوم گاندھی جی کے خلاف سر عام ریمارکس کئے جاتے ہیں۔ ان کی ہتک کی جاتی ہے ۔ ان کے تعلق سے انتہائی ناشائستہ اور نازیبا ریمارکس کئے جاتے ہیں۔ آج کے ماحول میں ملک کی آزادی کے تعلق سے انتہائی نازیبا اور ناشائستہ ریمارکس کئے جاتے ہیںاور سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے ریمارکس کرنے والوں کی عزت و توقیر کی جاتی ہے اور انہیں اعزازات سے نوازا جاتا ہے ۔ ہجومی تشدد میں کسی کو قتل کردینے اور جان سے ماردینے والوں کو جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد مرکزی وزیر پہونچ کر تہنیت پیش کرتے ہیں اور ان کی گلپوشی کی جاتی ہے ۔ مسلمانوں کے سماجی و معاشی مقاطعہ کے اعلانات ہوتے ہیں۔ انہیں ملک چھوڑنے کیلئے دھمکیاں دی جاتی ہیں اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہوتی ۔ جناب حامد انصاری نے شائد اس پروگرام میں ان ہی واقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تبصرہ کیا ہے ۔
آج مرکزی حکومت نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سے اس پروگرام کا انعقاد کرنے والے غیر جانبدار نہیں ہوتے ۔ یقینی طور پر ہمیں امریکہ یا دنیا کے کسی بھی ملک کے ذمہ داروں کے کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کوئی حق پہونچتا ہے کہ وہ ملک کے حالات پر کوئی تبصرہ کریں ۔ تاہم جہاں تک جناب حامد انصاری کے ریمارکس اور تبصرہ کی بات ہے اس پر حکومت کو توجہ کرتے ہوئے کوئی وضاحت کرنی چاہئے ۔ حامد انصاری ملک کے نائب صدر جمہوریہ رہے ہیںا ور ان کے تبصروں کو اہمیت دے کر اس پر جہاں ضروری ہو وضاحت کی جانی چاہئے اور جہاں ضروری ہو درکار اقدامات کئے جانے چاہئیں۔