حجاب پر ہائیکورٹ کا فیصلہ

   

Ferty9 Clinic

کوئی رہبر، نہ کوئی راہ، نہ کوئی منزل
قافلہ دیکھئے کس سمت روانہ ہوگا
کرناٹک ہائیکورٹ نے حجاب پر امتناع کے حکومت کرناٹک کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے اور یہ تبصرہ کیا ہے کہ حجاب کا استعمال اسلام میں لازمی نہیں ہے ۔ حجاب تنازعہ اچانک ہی کرناٹک میں پیدا ہوگیا تھا جہاں کئی برسوں کی روایات کو توڑتے ہوئے تعلیمی اداروں میں طالبات کو حجاب کے استعمال سے روک دیا گیا تھا ۔ اس سلسلہ میں احکام جاری کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں حجاب کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی تھی ۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد سے تمام تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کی جانب سے اپنی مرضی سے حجاب کا استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ مذہب اسلام نے بھی خواتین کو پردہ اور حجاب کی تعلیم دی ہے ۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حجاب استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ ملک کے دستور میں ہر مذہب کے ماننے والے کو یہ آزادی بھی حاصل ہے ۔ اس کے باوجود حکومت کرناٹک نے حجاب کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی اور اب ہائیکورٹ نے بھی اس کو برقرار رکھا ہے ۔ہائیکورٹ کا یہ کہنا کہ حجاب اسلام کا لازمی جز نہیں ہے در اصل مسلم طبقہ کی جانب سے عدالت میں موثر پیروی نہ کئے جانے کا نتیجہ ہے ۔ اس کے علاوہ اسلام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں حجاب کے مخالفین کامیاب ہوئے ہیں۔ اسلام نے خواتین کی عزت و احترام اور عفت و عصمت کی برقراری کے واضح احکام جاری کئے ہیں۔ خواتین کو اعلی ترین مقام دیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود مسلم طبقہ کے وکلاء اور فریقین کی جانب سے عدالت میں موثر پیروی نہیں کی گئی ۔ قرآن و احادیث مبارکہ سے حجاب کے حق میں دلائل اگر پیش کئے گئے ہوتے تو شائد صورتحال مختلف ہوتی ۔ حالانکہ کرناٹک ہائیکورٹ کے فیصلے کو اب سپریم کورٹ میں فوری چیلنج کردیا گیا ہے اور کرناٹک ہائیکورٹ کے فیصلے کو نامناسب اور مذہبی آزادی کو تلف کرنے کی کوشش قررار دیا جارہا ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ سپریم کورٹ میں اس مسئلہ پر موثر پیروی کی جائے ۔ مذہب کی صحیح تشریح کرتے ہوئے دستور کی گنجائش کا حوالہ بھی پیش کیا جائے ۔ اگر سپریم کورٹ میں موثر پیروی نہیں کی گئی تو پھر کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جائے گی ۔
حجاب کے حق کا دفاع کرنے کیلئے تمام ذمہ دار گوشوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ سپریم کورٹ میں فریق بنتے ہوئے موثر پیروی کی جانی چاہئے ۔ مسلمان برادری کو محض بیان بازیوں اور تبصروں یا پھر ایک دوسرے کے ٹانگ کھینچنے کی بجائے عملی طور پر اپنے حق کے دفاع کیلئے میدان میں آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ مذہب اسلام کی تشریح علماء کرام کو کرنی چاہئے ۔ سیاسی قائدین کو اس معاملے میں ٹانگ اڑاتے ہوئے اپنی سیاست چلانے کا موقع دئے بغیر مذہبی قیادت کو یہ فریضہ ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ بیان بازیوں کے ذریعہ دوسروں کو فائدہ اٹھانے کا موقع دئے بغیر سنجیدگی سے اپنے مذہبی ‘ دستوری اور قانونی حق کا دفاع کرنا اولین فریضہ ہونا چاہئے اور اس کے پس پردہ مفادات یا مصلحتوں کو بلائے طاق رکھے جانے کی ضرورت ہے ۔ پوری سنجیدگی کے ساتھ حقیقی معنوں میں قرآن و احادیث مبارکہ اور مذہبی احکام کی تشریح کرتے ہوئے اور دستور و قانون میں دئے گئے حق کی وضاحت کرتے ہوئے عدالت میں موثر پیروی کے ذریعہ اس حق کا دفاع کیا جاسکتا ہے ۔ ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے اگر ہر کوئی اس جدوجہد سے بچنے کی کوشش کریگا تو پھر حجاب کے حق سے محرومی کے اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے ۔ بات یہیں پر ختم بھی نہیں ہوگی ۔ اس کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں اور پھر دوسرے پہلووں کو بھی نشانہ بنانے کی سازشوں کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ حقیقت ہر طبقہ کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے ۔
عدالتوں میں معاملات کو الجھاتے ہوئے جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے اس کو بھی دور کرنے کیلئے ایک جامع اور مبسوط حکومت عملی کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کو اب عملی میدان میں قدم رکھنے کی ضرورت ہے ۔ محض بیان بازیوں کے ذریعہ اپنے حقوق کا دفاع اور تحفظ نہیں کیا جاسکتا ۔ تعلیم کا شعبہ خاص طور پر اہمیت کا حامل ہے ۔ تعلیم کے ذریعہ ہی ملت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے ۔ ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کرتے ہوئے اس کے ثمرات میں حصہ داری حاصل کی جاسکتی ہے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے دستوری اور قانونی حقوق کے تحفظ کیلئے کمر کس لیں اور اس کیلئے جدوجہد کیلئے تیار ہوجائیں۔