’’ہیڈ اسکارف کی اجازت نہیں دے سکتے‘‘
بنگلورو : کرناٹک ہائیکورٹ نے اڈوپی میں بھنڈارکر کالج آف آرٹس اینڈ سائنس کی 2 ڈگری کالج طالبات کو عبوری راحت دینے سے انکار کیا ہے۔ طالبات نے کالج کو ایسی ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی تھی کہ اُنھیں اپنے ہیڈ اسکارف (حجاب) کے ساتھ کلاسیس میں شرکت کرنے کی اجازت دی جائے۔ جسٹس کرشن ڈکشٹ کی سنگل جج بنچ نے 2 طالبات کی دائر کردہ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے کہاکہ 10 فروری کو اجلاس کاملہ نے جو عبوری حکمنامہ جاری کیا، وہ موجودہ طور پر اِس مسئلہ کا احاطہ کرتا ہے اور اِس لئے سنگل بنچ کی جانب سے کوئی دیگر راحت نہیں دی جاسکتی، بالخصوص ایسی صورتحال میں جبکہ سماعت فُل بنچ کے روبرو جاری ہے۔
مسئلہ کا ایسا پھیلاؤ نہیں چاہئے
دیگر ریاستوں میں بھی حجاب تنازعہ
امراوتی ؍ کانپور : ہندوستانی سیاست میں گزشتہ تین دہائیوں سے جذباتی ، علاقائی اور مذہبی طور پر حساس معاملوں پر سیاسی روٹیاں سینکی جاتی رہی ہیں۔ ہر موقع پر نااہل مگر شاطر سیاسی لیڈروں نے عوام کے جذبات کا کھلواڑ کیا اور اپنا اُلّو سیدھا کیا۔ حجاب تنازعہ کرناٹک کے اڈوپی سے شروع ہوا اور ریاست کے دیگر حصوں میں پھیل گیا۔ چند دنوں کے اندرون یہ معاملہ آندھراپردیش اور شمال میں یوپی اور مغرب میں سوت تک پہونچ چکا ہے۔ آندھرا میں ضلع پرکاشم کے علاقہ میں ایک اسکول پرنسپل نے حجاب نہ لگانے کا حکم صادر کیا، وہیں کانپور میں دو گروپوں میں حجاب کے مسئلہ پر جھڑپ ہوئی اور دو افراد زخمی ہوگئے۔
دلائل اِس ہفتے مکمل کرلیں
کرناٹک ہائیکورٹ کی ہدایت
بنگلورو : حجاب تنازعہ میں عاجلانہ فیصلے کے واضح اشارے دیتے ہوئے کرناٹک ہائیکورٹ کی اسپیشل بنچ نے منگل کے روز کونسلس کو ہدایت دی کہ اپنے دلائل اِس ہفتے مکمل کرلیں۔ خصوصی بنچ نے اُن عرضیوں کی جائزہ لینے کیلئے تشکیل دی گئی ہے جو اسٹوڈنٹس نے داخل کرتے ہوئے کلاس رومس میں حجاب لگانے کے اپنے حق سے استفادے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ چیف جسٹس ریتو راج اوستھی نے ایڈوکیٹ جنرل پربھو لنگ نوڈگی کو اپنے دلائل جلد از جلد مکمل کرلینے کی ترغیب دی۔ اے جی ریاست کی بسواراج بومئی زیرقیادت بی جے پی حکومت کی پیروی کررہے ہیں۔ عدالت نے دیگر فریقوں کوبھی یہی ہدایت دی۔
حجاب کے حامی پرغنڈوں کا حملہ
اڈوپی : حجاب کی درخواست گذار ہاجرہ شفا نے الزام عائد کیا ہے کہ سنگھ پریوار کے غنڈوں نے گزشتہ روز اُس کے بھائی پر حملہ کیا کیوں کہ وہ حجاب کے حقوق کی حمایت کررہا ہے۔ ہاجرہ نے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ہاجرہ نے کہاکہ میرے بھائی پر ہجوم نے شدید حملہ کیا کیوں کہ مَیں میرے حجاب کیلئے لڑرہی ہوں جوکہ میرا حق ہے۔ ہماری املاک کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ کیا مَیں میرے حق کا مطالبہ نہیں کرسکتی؟ اب اُن کا اگلا نشانہ کون ہوگا؟ میرا مطالبہ ہے کہ سنگھ پریوار کے غنڈوں کا حوصلہ مزید بڑھنے سے قبل اُن کو قابو میں کیا جائے۔ ہاجرہ کے ایک جانکار مسعود مُنّا نے بھی خاطیوں کے خلاف کارروائی کے لئے اڈوپی پولیس سے اپیل کی ہے۔