ماسک اوردیگر احتیاطی تدابیر سے گریز، وزیٹرس کی بلا روک ٹوک آمد و رفت، عہدیداروںکی لاپرواہی ملازمین کیلئے خطرہ بن سکتی ہے
حیدرآباد ۔11۔ جون (سیاست نیوز) حج ہاؤز نامپلی کی عمارت کورونا وائرس کے خطرہ کا سامنا کر رہی ہے ۔ عمارت میں کئی سرکاری دفاتر موجود ہیں اور دفاتر کو روزانہ آنے والے سینکڑوں افراد کے معائنہ اور احتیاطی تدابیر کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ ایسے وقت جبکہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کورونا تیزی سے پیر پھیلا رہا ہے، اقلیتی اداروں کے اس مرکز پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے گزشتہ دنوں اقلیتی اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت دی تھی۔ حج ہاؤز کی مکمل عمارت کو سینیٹائز کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ہر ادارہ اپنے اپنے دفاتر کو سینیٹائز کرے گا ۔ جائزہ اجلاس کے بعد آج تک کسی بھی اقلیتی ادارہ میں سینیٹائزیشن کا کام شروع نہیں ہوا ہے ۔ حج ہاؤز کی عمارت میں ایک طرف اقلیتی دفاتر کو آنے والوں کا سلسلہ صبح سے شام تک جاری رہتا ہے تو دوسری طرف حج ہاؤز کی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لئے اطراف کی دکانات کے تاجر آتے ہیں۔ حج ہاؤز میں داخلہ کیلئے کوئی پابندی نہیں جبکہ شہر میں بیشتر سرکاری عمارتوں میں وزیٹرس کے داخلہ پر روک لگا دی گئی ہے ۔ حج ہاؤز کی عمارت میں وزیٹرس کے علاوہ پبلک گارڈن کے پاس رہنے والے مائیگرنٹ ورکرس بھی داخل ہوتے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ کے حالیہ اجلاس کے بعد وزیٹرس کی پارکنگ عمارت کے بیرونی حصہ میں کردی گئی ہے جبکہ ملازمین اندرونی حصہ میں گاڑ یوں کی پارکنگ کریں گے ۔ مین گیٹ پر تھرمل چیکنگ کی جارہی ہے جبکہ تھرمل چیکنگ کے ساتھ ساتھ سینیٹائزر کا انتظام ہونا چاہئے ۔ ماسک کے استعمال کا کوئی باقاعدہ نظم نہیں ہے اور لوگ بغیر ماسک کے عمارت کے مختلف حصوں میں گھوم رہے ہیں ۔ قضاۃ شعبہ میں سرٹیفکٹس کے لئے آنے والے افراد اور اقلیتی اداروں میں مختلف کاموں کے لئے وزیٹرس کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ سرکاری دفاتر میں جس طرح ماسک کے بغیر داخلہ کی اجازت نہیں ، اسی طرح حج ہاؤز میں بھی ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیا جائے۔ ہر شخص کو چاہے وہ ملازم ہو یا وزیٹر ماسک کے ساتھ سینیٹائزر کا استعمال لازمی کرنا چاہئے ۔ عوام کو دفاتر کے اندرونی حصوں میں جانے کی اجازت وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بن سکتی ہے ۔ اقلیتی دفاتر کے عہدیداروں کی یہ لاپرواہی حج ہاؤز کی عمارت میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی کیونکہ زیادہ تر ملازمین 50 سال سے زائد عمر کے ہیں اور کئی ریٹائرڈ افراد کو دوبارہ خدمات پر معمور کیا گیا ہے ۔ موجودہ حالات میں اگر فوری چوکسی اختیار نہیں کی گئی تو کورونا اس عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ نماز کے لئے آنے والے افراد کی مکمل جانچ اور ماسک اور سینیٹائزر کے استعمال کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
