حدیث،فقہ ، علم کلام کے امام الائمہ ابوحنیفہ ؒ

   

ایک فقیہ، شیطان پر ۱۰۰۰ عابد وں سے زیادہ بھاری اور مشکل ہوتا ہے اور ہرچیز کیلئے ایک ستون ہوتا ہے اور دین کا ستون تفقہ فی الدین ہے ۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک لمحہ کیلئے بیٹھ کر فقہ کی تعلیم میرے نزدیک رات بھر نفل عبادتوں سے بہتر ہے‘‘۔(دارقطنی)صحیح بخاری میں حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ آقا کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عزوجل جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں (ہی ہر شئی ) تقسیم کرنے والا ہوں عطا کرنے والا اللہ ہے‘‘۔
امام اعظم علم حدیث، علم فقہ ، علم کلام و منطق کے امام ہیں بلکہ ان علوم کے ائمہ کے امام ہیں ، آپ سراج الائمہ مجتہد اعظم ، بانی و موسس فقہ حنفیہ ہیں۔ مفسر قرآن امام جلال الدین سیوطی شافعی مصری ؒ فرماتے ہیں کہ آقا کریم ﷺکا یہ فرمان مبارک ’’اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہوگا تو اہلِ فارس میں سے ایک شخص اس کو حاصل کر لے گا‘‘دراصل امام اعظم امام ابوحنیفہؒ سے متعلق ہے۔ امام اعظم کا اسم گرامی ’’نعمان‘‘ اور کنیت ’’ابوحنیفہ‘‘ ہے۔ ولادت ۸۰ ھ میں عراق کے کوفہ شہر میں ہوئی۔ آپ فارسی النسل تھے۔ والد کا نام ثابت اور آپ کے دادا نعمان بن مرزبان کابل کے اعیان واشراف میں بڑی فہم وفراست کی شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کے پردادا مرزبان فارس کے ایک علاقہ کے حاکم تھے۔ حضرت اسماعیل بن حماد بن نعمان بن ثابتؒ فرماتے ہیں کہ امام اعظم کے والدِ گرامی حضرت ثابتؒ بچپن میں حضرت سیدنا مولی علی شیرخداؓ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپؓ کی خدمت کی تو باب مدینۃ العلم سیدنا علی مرتضی ؓ نے ان کیلئے اور ان کی اولاد کیلئے برکت کی دعا فرمائی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ نے حضرت علی ؓ کی دعا کو ہمارے حق میں قبول فرما لیا ہے (اور اس کا نتیجہ حضرت امام ابوحنیفہؒ ہیں)(تاریخ بغداد) ۔ اسی طرح امام اعظم فرمایا کرتے: اگر مجھے (امام جعفر صادقؓکی صحبت کے) دو سال نہ ملتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا۔ اہل بیت اطہار سے خاص نسبت و تعلق تھا ، آپ نے امام سید محمد باقر ، امام جعفر صادق ، امام زید بن علی ودیگر ائمہ اہل بیت اطہار سے استفادہ فرمایا ہے۔

امام اعظم کو اللہ عز وجل نے وہ شرف عطا فرمایا تھا کہ ائمہ اربعہ میں آپ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت سے استفادہ فرمایا ہے ۔امام ابومعشر عبد الکریم طبری مقری شافعی نے فرمایا ہے کہ انہوں نے امام ابوحنیفہ کی مختلف صحابۂ کرام سے روایات نقل کی ہیں۔ (۱)حضرت انس بن مالکؓ(۲) حضرت عبد اللہ بن جزاء الزبیدی ؓ (۳) حضرت جابر بن عبداللہ ؓ (۴) حضرت معقل بن یسار ؓ (۵) حضرت واثلہ بن الاسقع ؓ (۶) حضرت عائشہ بنت عجر ؓ وغیرہ شامل ہیں۔ اکثر لوگ آپ کے فقہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے کہ وہ احادیث سے متصادم ہے جبکہ احادیث کی مشہور کتابیں (بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداود، نسائی، ابن ماجہ، طبرانی، بیہقی، مسند ابن حبان، مسند احمد بن حنبل وغیرہ) امام ابوحنیفہ کی وفات کے تقریباً150سال بعد مدون ہوئی ہیں۔ ان کتابوں کے مولفین اور مصنّفین ، امام ابوحنیفہ کی حیات مبارک میں موجود ہی نہیں تھے، ان میں سے اکثر امام اعظم کے تلامذہ کے شاگرد ہیں۔ ان کتب احادیث کی تصنیف سے پہلے ہی امام صاحب کے خاص شاگرادوں قاضی ابویوسف اور امام محمد نے آپ کے حدیث اور فقہ کے دروس کو کتابی شکل میں مرتب کردیا تھاجو آج بھی دستیاب ہیں۔ ان کتبِ حدیث میں چار یا پانچ یا چھ واسطوں سے احادیث ذکر کی جاتی ہے جب کہ امام صاحب کے پاس زیادہ تر احادیث صرف دو یا تین واسطوں سے ملتی ہیں ، اس طرح امام اعظم نے جو احادیث روایت فرمائی ہیں وہ اصحُ الاسانید کے علاوہ احادیثِ صحیحہ، مرفوعہ، مشہورہ اور متواترہ کا مقام رکھتی ہیں۔ڈاکٹر بخاری نے مزید کہا کہ امام اعظم دن بھر علم دین کی اِشاعت، ساری رات عبادت ورِیاضت میں بسرفرماتے۔آپ مسلسل تیس سال روزے رکھے،تیس سال تک ایک رکعت میں قراٰنِ پاک ختم کرتے رہے، چالیس سال تک عِشا کے وضو سے فجر ادا کی، ہر دن اور رات میں قرآن مجید ختم فرماتے، رمضان المبارک میں 62قرآن ختم فرماتے اور جس مقام پر آپ کی وفات ہوئی اُس مقام پر آپ نے سات ہزاربار قراٰنِ پاک ختم کئے۔ آپ کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ حضرت شقیق بلخی فرماتے ہیں کہ میں امامِ اعظم کے ساتھ جا رہا تھا کہ ایک شخص آپ کو دیکھ کر چھپ گیا ۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے اسے بلایا اور وجہہ دریافت فرمائی ۔ اس نے کہا : میں آپ کا مقروض ہوں، میں نے آپ کو دس ہزار درہم دینے ہیں جس کو کافی عرصہ گزر چکا ہے اور میں تنگدست ہوں، آپ سے شرماتا ہوں۔ اس پر آپ نے فرمایا: میری وجہ سے تمہاری یہ حالت ہے، جاؤ! میں نے سارا قرض تمہیں معاف کر دیا۔ (الخیرات الحسان، ص 57)
آپ کی شان و عظمت کو جاننے کیلئے شافعی فقہ کے امام و مجتہد وقت امام شافعیؒ فرماتے تھے کہ مجھے جب کوئی مشکل پیش آتی تو دو رکعت پڑھ کر امامِ اعظم کی قبر پہ حاضر ہوجاتا ہوں اور اللہ کے حضور دُعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے‘‘۔(سیراعلام النبلاء،ج:6، ص:537)۔حضرت سُلطان باھو ؒ ارشاد فرماتے ہیں:’’یاد رہے کہ اصحاب کرام کے بعد فقر کی دولت دو حضرات نے پائی-ایک غوثِ صمدانی محی الدین شاہ عبد القادر جیلانی قدس سرّہٗ اور دوسرے حضرت امام ابو حنیفہ کوفی ؒ جو ایک تارکِ دنیا صوفی تھے- آپ نے ستر برس تک کوئی نماز قضا کی نہ روزہ کیونکہ اِن اعمال کی قضا بندے کو اہل ِدنیا کا ہم نشین بناتی ہے‘‘۔
عباسی خلیفہ ابو جعفر منصورنے آپ کو عہدئہ قضا پیش کیا؛ لیکن آپ نے معذرت چاہی تو آپ نے انکار کردیا اور قسم کھالی کہ وہ یہ عہدہ قبول نہیں کرسکتے، جس کی وجہ سے ۶۴۱ہجری میں آپ کو قید کردیا گیا۔ آپ کی علمی شہرت کی وجہ سے قید خانہ میں بھی تعلیمی سلسلہ جاری رہا اور امام محمدجیسے محدث وفقیہ نے جیل میں ہی امام صاحب سے تعلیم حاصل کی۔امام ابوحنیفہ کی مقبولیت سے خوفزدہ خلیفۂ وقت نے امام صاحب کو زہر دلوادیا۔ جب آپ کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں وفات پاگئے۔ اس طرح صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے خوف سے قاضی کے عہدہ کو قبول نہ کرنے والے نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا؛ تاکہ خلیفۂ وقت اپنی مرضی کے مطابق کوئی ایسا فیصلہ نہ کراسکے جس سے مالکِ حقیقی ناراض ہوں۔اللہ عز وجل ہمیں امام اعظم کے فیضان سے مالا مال فرمائے اور اتباعِ سنت مصطفی ﷺ پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین