مولانا سید شاہ سمیع اللہ حسینی بندہ نوازی
حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا پورا نام نعمان بن ثابت بن زوطی تھا۔ آپ کی پیدائش ۸۰ ہجری (۶۹۹ عیسوی) میں عراق کے علمی مرکز شہر کوفہ میں ہوئی، جو اُس وقت اُموی خلافت کا حصہ تھا۔ آپ کا نسب فارسی النسل تھا اور آپ کے آباؤ اجداد کابل یا فارس کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد محترم ثابت بن زوطی ایک دیانتدار اور کامیاب تاجر تھے جو ریشم کی تجارت کرتے تھے۔ کوفہ اُس وقت صحابہ کرام اور تابعین کے علم و فقہ کا گہوارہ تھا، جہاں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جیسے جلیل القدر صحابی کی علمی مجالس قائم تھی۔ امام صاحب نے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کیا اور ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے اپنے والد کے کاروبار کو سنبھالا اور ریشم کے کپڑے کی تجارت میں مشغول ہوئے۔ یہ عملی تجربہ آپ کے لیے لوگوں کے معاشرتی و معاشی مسائل کو سمجھنے کا ذریعہ بنا، جو بعد میں آپ کی فقہی بصیرت کی بنیاد ثابت ہوا۔علم کی پیاس نے آپ کو تجارت کے ساتھ ساتھ تحصیلِ علم کی طرف مائل کیا۔ آپ نے تقریباً اٹھارہ سال تک کوفہ کے جلیل القدر فقیہ حضرت حماد بن ابی سلیمان رحمۃ اللہ علیہ (تابعی اور امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد) سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے علم کی تکمیل کے لئے مکہ، مدینہ اور دیگر علمی مراکز کا سفر کیا اور تقریباً چار ہزار اساتذہ سے استفادہ کیا۔ آپ نے فقہ، حدیث، تفسیر اور علم الکلام میں مکمل دسترس حاصل کی اور تقریباً چار ہزار احادیث کو حفظ کیا۔آپ کو اہلِ بیتِ اطہار سے خصوصی محبت اور عقیدت تھی۔ آپ نے امام محمد باقرؓ اور امام جعفر صادقؓ کی مجالس میں حاضری دی اور ان سے علمی استفادہ کیا۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اسلامی فقہ کو ایک منظم اور ہمہ گیر علمی نظام کی شکل دی۔ آپ نے ” مکتبِ فکر حنفی“کی بنیاد رکھی، جو قرآن مجید، سنتِ رسول اللہ ، اجماعِ امت اور قیاس کے اُصولوں پر استوار ہے۔ آپ نے اپنے چالیس ممتاز شاگردوں پر مشتمل ایک ” مجلسِ شوریٰ “ تشکیل دی، جہاں فقہی مسائل پر اجتماعی غور و خوض اور بحث و مباحثہ ہوتا تھا۔ آپ کے فتاویٰ کی تعداد تقریباً تراسی ہزار بتائی جاتی ہے۔
امام صاحب کے ہزاروں شاگردوں میں سے چالیس سے زائد مجتہد تھے۔ ان شاگردوں نے امام صاحب کے علم کو پھیلانے اور اسے مدون کرنے میں ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔فقہ حنفی کو تاریخی طور پر عثمانی سلطنت کا سرکاری مذہب ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔ آج یہ فقہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی کی رہنمائی کرتی ہے۔ تخمینوں کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً ایک تہائی سنی مسلمان (تقریباً ۵۰ سے ۶۰ کروڑ سے زائد) فقہ حنفی پر عمل پیرا ہیں۔امام صاحب انتہائی متقی، پرہیزگار اور زاہد تھے۔ آپ نے پچپن(۵۵) مرتبہ حج ادا کیا۔آپ راتوں کو نوافل و تلاوت میں گزارتے تھے، اور آپ نے قرآن مجید کو سات ہزار مرتبہ ختم کیا۔آپ نے اپنی تجارت میں حلال روزی پر سختی سے عمل کیا اور شک و شبہ کی آمدنی سے پرہیز کیا۔ آپ نے حق گوئی کی بنا پر عباسی خلیفہ منصور کی طرف سے پیش کردہ قاضی القضاۃ کے عہدے کو ٹھکرا دیا، جس پر آپ کو قید و تشدد کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، مگر آپ نے حق پر ثابت قدمی دکھائی۔ آپ سخاوت میں بھی مشہور تھے اور اپنی آمدنی کا بڑا حصہ طلبہ، علماء اور محتاجوں پر خرچ کرتے تھے۔آپ کا زیادہ تر وقت تدریس و مباحثہ میں گزرتا تھا، آپ کی فقہی آراء کا اصل ذخیرہ آپ کے شاگردوں کی تصانیف میں محفوظ ہے۔آپ کا وصال ۱۵۰ ہجری ( ۷۶۷ عیسوی ) میں بغداد میں ہوا۔ بعض معتبر تاریخی روایات کے مطابق آپ کو قید کے دوران زہر دے کر شہید کیا گیا۔ آپ کی بغداد میں تدفین ہوئی، جہاں آپ کا مزار (اعظمیہ علاقہ) آج بھی لاکھوں عقیدت مندوں کے لئے مرجعِ خلائق ہے۔
حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ محض ایک فقیہ نہیں، بلکہ علم و عمل، تقویٰ و استقامت، اور رواداری و اجتہاد کی زندہ مثال تھے۔آپ نے فقہِ اسلامی کو ایسا لچکدار، منظم اور منطقی نظام عطا کیا جو ہر دور کے معاشرتی، تجارتی اور بین الاقوامی مسائل کا حل پیش کر سکتا ہے۔ آج کے دور میں، جب اُمت مسلمہ انتشار کا شکار ہے، امام صاحب کا تعمیری اختلاف، علمی رواداری، قرآن و سنت پر مبنی اجتہاد اور اہلِ بیتِ اطہار سے محبت و عقیدت کا جذبہ ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی سیرت و تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
