مولانا ڈاکٹر سید اویس بخاری
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ، حضرت فاطمہ بنت اسد ؓکے بطن سے اندرون خانہ کعبہ چھٹی صدی عیسوی میں پیدا ہوئے۔ صغرسنی میں آپؓ حضور اکرم ﷺکی زیر کفالت آگئے اور دربار نبوت ﷺسے آخر تک جڑے رہے۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کبھی بتوں کی پوجا نہیں کی، اور آپ ﷺ کے بعد مجھ سے پہلے کسی نے خدا کی عبادت نہیں کی۔ ابتدائی عمر سے ہی حضور سے از حد زیادہ محبت کرتے ۔ آپؓ اپنی جان کی بازی لگاکر آقا کریم ﷺ کے بستر پر پوری رات لیٹے رہے اور حضور ﷺہجرت کے لئے روانہ ہوگئے۔ اس کے تین دن بعد خود بھی حضور سے جاملے۔ اللہ عز وجل نے آپؓ کو بے پناہ شان و عظمت عطا فرمایا تھا ، جو آپؓ کو دوسرے صحابۂ کرام سے منفرد و ممتاز کیا کرتے ، آپؓ کی اولیات میں جو چیزیں شامل ہیں جو آپؓ کو دوسروں سے منفرد رکھتی ہیں ان میں ، آپؓ نے سب سے پہلے ایمان قبول فرمایا ، آپؓ نے سب سے پہلے آقا کریم ﷺ کے بعد عبادت کرنے میں سبقت حاصل کی ، مصطفی کریم ﷺ کے دولت کدہ پر کم وبیش ۲۵ سال تک آپ ﷺ کی صحبت میں رہے ، حبیب داور ﷺ نے اپنی لختِ جگر سیدۂ کائنات ؓ سے نکاح فرمایا ، آپ کیلئے فرمایا کہ میں جس کا مولا ہوں علی اس کے مولا ہیں۔ آپ ہی کو دنیا و آخرت میں بھائی ہونے کی بشارت عطا ہوئی ، آپؓ ہی کے دستِ مبارک سے خیبر فتح ہوا ، دورانِ نماز صدقہ و زکواۃ دینے کا شرف حاصل ہوا ، سورہ مجادلہ کی آیت اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً پر عمل کرنے کا تنہا شرف حضرت مولا علی ؓ کو نصیب ہوا۔ حبیب پاک ﷺ نے اُنہیں مثل ہارون فرمایا ، اس کے علاوہ سیدنا علی مرتضیٰ ؓ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خصائص و امتیازات سے ممتاز فرمایا۔ آپؓ کو فضائل وکمالات کا جامع، علوم و معارف کا منبع، رشد وہدایت کا مصدر، زہد و ورع، شجاعت وسخاوت کا پیکر اور مرکز ولایت بنایا۔ آپ وہ عظیم البرکات شخصیت ہیں جن کی ولادت کعبہ شریف کے اندر ہوئی۔ یہ آپ کی ایسی فضیلت ہے کہ جس میں آپ کا کوئی شریک نہیں۔حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: علم کے دس حصے ہیں، ان میں سے نو حصے حضرت علی ؓ کو دیئے گئے اور دسویں حصے میں بھی وہ لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی بات حضرت علی ؓ سے ثابت ہوجاتی ہے تو ہم اسے چھوڑ کردوسری بات اختیار ہی نہیں کرتے۔ اکابر اور جید صحابہ کرامؓ مشکل و دقیق مسائل میں حضرت علی ؓکی طرف رجوع کرتے تھے ۔ حضرت علی ؓ علمی اعتبار سے صحابۂ کرام میں ایک خاص مقام رکھتے تھے اور کیوں نہ رکھتے ہوں کہ خود مصطفی کریم ﷺ نے آپؓ کی علمی شان بیان کرتے ہوئے آپؓ کو علم و حکمت کا دروازہ فرمایا ۔آپ ؓقرآنِ کریم کی آیات کے بارے میں جانتے تھے کہ کون سی آیت کب اور کہاں نازِل ہوئی ہے۔