حضرت محمد یوسف فیض اللہ شاہ نقشبندی ؒ

   

حافظ حسین محمد نقشبندی قادری
حیدرآباد اولیائے کرام کا چمن اور علم و حکمت کا مخزن ہے۔ ہند اور بیرون ہند سے بے شمار بزرگان دین رونق افروز ہوکر دکن کو نور کا مسکن بنادیا اور پھر دکن سے فیض و برکات کے چشموں کو جاری کرنے علمائے کرام، صوفیا، مبلغین اور مصلحین نے انفرادی و اجتماعی انداز میں بیرون ملک کا سفر فرمایا۔ انہیں میں ایک ذات گرامی حضرت الحاج محمد یوسف فیض اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادریؒ کی ہے۔آپ حضرت حسن محمد ؒکے فرزند دلبند ہیں۔ ۴؍شعبان ۱۳۴۶ھ؁ م ۲۸؍جنوری ۱۹۲۸؁ء بروز ہفتہ کو آپ کی ولادت حیدرآباد دکن میں ہوئی۔ آپ اپنے پیر و مرشد محدث دکن عارف باللہ ابوالحسنات حضرت سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری ؒ اور جانشین محدث دکن ابوالبرکات حضرت سید خلیل اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت بافیض سے بدرجہ اتم فیض یاب ہوئے۔ بعد ازاں آپ کو نقشبند دکن حضرت شاہ سعداللہ نقشبندی مجددی قادریؒ کے سجادہ نشین حضرت سید شاہ عبدالمغنی مقبول بادشاہ نقشبندیؒ نے خلافت و اجازت مرحمت فرمائی۔ آپؒ اطاعتِ خداوندی و اتباع رسول ﷺ کے عملی نمونہ تھے۔ آپؒ حق گوئی، بے باکی، خشیت الٰہی اور عشق سرور کونین ﷺجیسے اوصاف حمیدہ سے متصف تھے۔ ۸؍جنوری ۱۹۸۷؁ء کو آپ اپنے پیر و مرشد ابوالحسنات محدث دکن حضرت سید عبداللہ شاہ صاحب نقشبندیؒ کے نام و نامی سے منسوب کرتے ہوئے مدرسہ حسنات العلوم کا قیام عمل میں لایا جہاں علوم اسلامیہ کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ آپ کی شخصیت نے سرزمین ماریشس پر سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کا تعارف کروایا، تزکیہ نفس اور تصفیۂ قلب کے ذریعہ ہزاروں افراد کو معبود حقیقی سے جوڑ دیا اور وہیں طالبان طریقت نے آپ سے شرف بیعت حاصل کی۔ حضرت ممدوحؒ کا وصال ۲۷؍شوال المکرم ۱۴۲۴؁ ھ م ڈسمبر ۲۰۰۳؁ء بروز دوشنبہ بعمر تقریباً ۷۷ سال ہوا اور مدرسہ کے احاطہ میں تدفین عمل میں آئی اور ہر سال ۲۷ ؍ شوال المکرم کو عرس شریف عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔