حضورآباد میں راجندر کے خلاف ٹی آر ایس کو مضبوط امیدوار کی تلاش

   

ونود کمار اور پدی ریڈی کے ناموں پر سرگرمی سے غور
حیدرآباد: کابینہ سے برطرف کردہ سابق وزیر ایٹالہ راجندر نے اگرچہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا ہے لیکن ٹی آر ایس نے حضور آباد اسمبلی حلقہ سے راجندر کے خلاف موزوں امیدوار کی تلاش شروع کردی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پلاننگ کمیشن کے نائب صدرنشین بی ونود کمار کے علاوہ سابق رکن اسمبلی ای پدی ریڈی کے نام ہائی کمان کے پاس زیر غور ہیں۔ ونود کمار کا شمار چیف منسٹر کے بااعتماد ساتھیوں میں ہوتا ہے اور وہ کریم نگر لوگ سبھا حلقہ کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ ونود کمار حضور آباد میں اپنا خاصہ اثر رکھتے ہیں ، لہذا پارٹی ضمنی چناؤ کی صورت میں راجندر کے خلاف میدان میں اتارنے پر غور کر رہی ہے ۔ ای پدی ریڈی دو مرتبہ اسمبلی کے رکن رہے اور چندرا بابو نائیڈو دور حکومت میں ریاستی وزیر رہے۔ 2014 اور 2018 ء میں دیگر جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کے نتیجہ میں انہوں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ 2018 ء میں پدی ریڈی نے کوکٹ پلی اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کی کوشش کی لیکن انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ پدی ریڈی کا شمار کلین امیج رکھنے والے قائدین میں ہوتا ہے۔ 2019 ء میں پدی ریڈی نے تلگو دیشم سے استعفیٰ دے کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ وہ بی جے پی میں شمولیت کے باوجود متحرک نہیں رہے جس کے سبب ٹی آر ایس قائدین نے ان سے ربط قائم کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ پدی ریڈی کورونا سے متاثر ہیں اور وہ ہوم آئسولیشن کے تحت زیر علاج ہیں۔ باوجود اس کے ٹی آر ایس قیادت نے ان سے ربط قائم کیا پدی ریڈی نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ٹی آر ایس قائدین نے ان سے ربط قائم کرتے ہوئے حضور آباد اسمبلی حلقہ سے ضمنی چناؤ کی صورت میں مقابلہ کا پیشکش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب وقت پر وہ اپنے فیصلہ کا اعلان کریں گے ۔