حضور آباد میں آج رائے دہی

   

Ferty9 Clinic

جاگے گا انسان زمانہ دیکھے گا
اٹھے گا طوفان زمانہ دیکھے گا
حضور آباد میں آج رائے دہی
تلنگانہ کے حلقہ اسمبلی حضور آباد میں کل ہفتے کو رائے دہی ہونے والی ہے ۔ ریاستی وزارت سے علیحدگی اور ٹی آر ایس پارٹی اور اسمبلی کی رکنیت سے ایٹالہ راجندر کے استعفی کے بعد یہ انتخاب ضروری ہوگیا تھا ۔ جس وقت سے ایٹالہ راجندر نے اسمبلی کی رکنیت اور ٹی آر ایس سے استعفی دیدیا تھا عملا اسی وقت سے اس حلقہ میں انتخابی مہم کا آغاز کردیا گیا تھا ۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے یہاں کئی مہینوں سے انتخابی مہم کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں ہی جماعتوں نے اپنی اپنی ساری طاقت اس حلقہ میں جھونک دی ہے ۔ انتخابی مہم کو انتہائی شدت کے ساتھ چلایا گیا ۔ الزامات اورجوابی الزامات کا ایک سلسلہ سا چلتا رہا ۔ ایک جماعت سے الزام عائد ہوتا رہا تو دوسری جماعت نے بھی جواب دینے میں کوئی تاخیر نہیں کی ۔ انتخابی مہم کے اختتامی مراحل میں پیسے اور شراب کے بے دریغ استعمال کی جو اطلاعات ملی ہیں ان کے نتیجہ میں انتخابی عمل پراگندہ ہوگیا ہے ۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ حضور آباد میں ایک ایک ووٹ کی قیمت ہزاروں روپئے مقرر کردی گئی ہے ۔ ایک جماعت ایک ووٹ کے چھ ہزار روپئے ادا کر رہی ہے تو دوسری بھی پیچھے ہٹنے تیار نہیں ہے اور ایک ووٹ کیلئے دس ہزار روپئے تک بھی ادا کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس طرح کے الزامات سے انتخابی عمل کی اہمیت و افادیت مشکوک ہوجاتی ہے اور انتخابی اصلاحات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ حضور آباد میں کانگریس بھی حالانکہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے لیکن جو تاثر مل رہا ہے وہ یہی ہے کہ کانگریس کی ساری توجہ اپنے امیدوار کی ضمانت بچانے تک محدود ہے ۔ اگر کانگریس امیدوار کی ضمانت بچ جاتی ہے تو بھی پارٹی کیلئے یہ بڑی بات ہوگی ۔ تاہم پیسے کے کھیل کے ذریعہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی جاتی ہے تو یہ انتخابی عمل کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ۔ عوام کے سامنے ہر جماعت کو اپنے اپنے پروگرامس اور منصوبے پیش کرتے ہوئے اور اپنی خدمات کے ریکارڈ کو پیش کرتے ہوئے ووٹ مانگنے کا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہئے لیکن جو اطلاعات ہیں ان کے مطابق تو ہزاروں روپئے میں ووٹ خریدے جا رہے ہیں۔
یہ پہلو الگ ہے کہ کس جماعت نے فی ووٹ کتنے ہزار روپئے ووٹرس کو ادا کئے ہیں لیکن ایک بات ضرور قابل غور ہے کہ اس معاملے میں کسی کو بھی استثنی حاصل نہیں ہے ۔ ہر جماعت اور ہر امیدوار کی جانب سے اپنی اپنی سکت و استطاعت کے مطابق رقومات خرچ کی جا رہی ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اسمبلی انتخابات کیلئے اخراجات کی ایک حد مقرر ہے لیکن جو اندازے ہیں ان کے مطابق سارے الیکشن کیلئے جو اخراجات کی حد مقرر کی گئی ہے وہ امیدواروں کے چند گھنٹوں کے خرچ سے بھی کم محسوس ہوتی ہے ۔ انتخابات کو طاقت اور زور آزمائی میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ پیسے اور طاقت کے کھیل میں بدل دیا گیا ہے ۔ اس طرح سے جمہوریت کا مذاق اڑایا جارہا ہے ۔ ہماری جمہوریت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کی بجائے لالچ اور بزور طاقت کامیابی حاصل کی جا رہی ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ریاستی سطح پر اور مرکزی سطح پر برسرا قتدار پارٹیاں اس طرح قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہیں۔ سینکڑوں کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی جا رہی ہے ۔ اس طرح سے حاصل کی جانے والی کامیابی کو عوامی تائید سے مربوط کرنا بھی ایک بھونڈے مذاق سے کم نہیں کہا جاسکتا ۔ یہاں سوال کسی ایک جماعت یا امیدوار کا نہیں بلکہ سارے انتخابی عمل کا اور ملک کی جمہوریت کا ہے ۔ اگر ملک کی جمہوریت کو خود سیاسی جماعتیں اور امیدوار کھوکھلا کرتے ہیں تو یہ افسوسناک پہلو ہی کہا جاسکتا ہے ۔
جہاں تک رائے دہندوں کا سوال ہے انہیں بھی اپنے مزاج کو بدلنے کی ضرورت ہوگی ۔ طاقت اور پیسے کے بل پر اگر کوئی امیدوار کامیاب ہوتا ہے اور آپ کے ووٹ خرید کر جیت حاصل کرتا ہے تو پھر اس کی ساری معیاد تک اس سے کسی طرح کی عوامی خدمت کی امید کرنا بھی فضول ہوجاتا ہے ۔ کامیاب رکن اسمبلی ہو یا رکن پارلیمنٹ ہو وہ پھر اپنے اخراجات واپس وصول کرنے میں جٹ جاتا ہے اور عوام کی خدمت یا ان کے مسائل کی یکسوئی اس کی ترجیحات میں شامل نہیں رہتیں۔ حضور آباد میں بھی جو کچھ ہوا ہے اور جو اطلاعات مل رہی ہیں وہ سیاسی جماعتوں ‘ ان کے قائدین اور امیدواروں کے علاوہ خود حلقہ کے رائے دہندوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہیں۔ کارکردگی اور منصوبوں کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہوئے غیر اخلاقی طریقوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے ۔