سنگاریڈی میں اے پی سی آرکے زیراہتمام قانونی بیداری کے عنوان پر اجلاس ، رگھوناتھ ایڈوکیٹ ، ایم اے قادر فیصل و دیگر معززین کا خطاب
سنگاریڈی ۔21 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سنگاریڈی میں اے پی سی آر کے زیر اہتمام قانونی بیداری اور انصاف کا حصول کے عنوان پر ایک اجلاس 20 مئی کی شب سٹی آڈیٹوریم میں ڈاکٹر شیخ عثمان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے رگھوناتھ سینئر اڈوکیٹ و ممبر بار کونسل ہائیکورٹ نے کہا کہ ملک میں صرف انسانی حقوق ہی نہیں بلکہ جمہوری حقوق پر بھی سنجیدگی سے گفتگو اور عمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر شہری کو اپنے دستوری حقوق اور قوانین سے واقفیت حاصل کرنی چاہیے رگھوناتھ نے کہا کہ ہم کسی نظام کے نہیں بلکہ دستور ہند کے تابع ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ آج سچ بولنا اور سوال کرنا بھی جرم بنتا جا رہا ہے، جبکہ آئین ہند ہر شہری کو اظہارِ رائے اور انصاف کے بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے آزادی ہند کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی کے لیے ہر مذہب، ذات اور طبقے کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ انہی قربانیوں کا نتیجہ آج کی آزادی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ملک میں سیکولرازم اور سوشلسٹ اقدار کو دستور سے کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1992 میں ملک میں دو بڑے واقعات نے نئے سیاسی و معاشی باب کھولے۔ ایک بابری مسجد کی شہادت اور دوسرا اقتصادی اصلاحات جنہوں نے ملک کے سیاسی اور معاشی ڈھانچے کو یکسر بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ بلا خوف و خطر اپنے دستوری حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کریں اور ظلم و ناانصافی کے خلاف متحد ہو جائیں۔ ڈاکٹر شیخ عثمان نے کہا کہ اے پی سی آر بلا تفریق مذہب و ملت مظلوموں کی آواز بلند کر رہی ہے۔ ملک اور ریاست کے دانشور، وکلاء اور سماجی جہدکار اس تنظیم کے ساتھ مل کر انصاف کی جدوجہد میں شامل ہیں۔ اے پی سی آر نے حال ہی میں تلنگانہ میں دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور خواتین پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ بھی جاری کی ہے۔ ڈاکٹر شیخ عثمان نے کہا کہ تنظیم تلنگانہ نے فرقہ وارانہ واقعات کے خلاف اور ریاست کے پرامن ماحول کو خراب کرنے والی طاقتوں کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں اور سچائی، انصاف اور دستور کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔ ایم اے قادر فیصل نائب صدر تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا،مطلب صرف ظلم، تشدد، فرضی انکاونٹرس، جھوٹے مقدمات نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ انسان کی ساری زندگی پر محیط ہے۔ انسانی حقوق ایک پرامن اور انصاف پر مبنی معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر عوام کے حقوق محفوظ ہوں تو معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور ترقی پیدا ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق اقوام متحدہ نے 1948 میں انسانی حقوق ڈیکلریشن منظور کیا جس میں دنیا بھر کے انسانوں کے بنیادی حقوق بیان کیے گئے۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسانیت، عدل، مساوات اور رحم و کرم کا درس دیتا ہے۔ اسلام نے ہر انسان کو عزت و احترام عطا کیا اور بلا تفریق رنگ، نسل زبان اور قوم بنیادی حقوق فراہم کیے۔ اسلام میں انسانی حقوق کا مقصد انسان کی جان مال عزت اور آزادی کا تحفظ ہے۔ اقوام متحدہ نے 1948ء میں انسانی حقوق ڈیکلریشن جاری کیا جبکہ نبی کریمؐ نے 1400 سال قبل ہی اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں انسانوں کے مساوی حقوق اور بھائی چارے کا عظیم پیغام دیا جو دنیا کا سب سے اولین اور عظیم انسانی حقوق ڈکلیریشن ہے۔ آئین ہند میں انسانی حقوق کو بنیادی حقوق کی شکل میں شامل کیا گیا ہے یہ حقوق ہر شہری کی عزت اور آزادی کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہندوستانی آئین میں حق مساوات کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ اجلاس کو بیریا یادو نیٹیو انڈیا، بھارت ستیہ ناراینا، منوہر اڈوکیٹ، محمد سہیل علی ایڈوکیٹ، محمد نواز کونسلر، شبنم شہانہ ایڈوکیٹ، محمد کلیم، شفیع الرحمٰن صدر ملی فورم ضلع سنگاریڈی نے مخاطب کیا۔ محمد مختار حسین نے کاروائی چلائی۔ حافظ شیخ مبین نے خیرمقدم کیا جبکہ محمد عبدالمنان نے اظہار تشکر کیا۔نرسملو اڈوکیٹ، مجیب، عادل، لکشمی، کلیم خان، اویس، جنید، شاہنواز خان ایڈوکیٹس، الا سفران، ایم جی انور، سید شاہنواز، اکرام علی عمر، ایم جی قادر اور دیگر معززان شہر نے اس اجلاس میں شرکت کی۔