ہم نے نہ تم کو جانا، قاتل ہو کہ مسیحا
دنیا سے پوچھ لیں گے تم ہو حقیقتاً کیا
حقیقت سے انکار
ملک میں مہنگائی اپنی حدوں کو چھونے لگی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر مباحث اور تبادلہ خیال کیلئے اصرار کیا گیا ۔ حکومت نے کئی دن تک اس پر ہٹ دھرمی والا رویہ اختیار کیا اور مباحث سے انکار کیا جاتا رہا ۔ بالآخر آج اس مسئلہ پر لوک سبھا میں مباحث ہوئے ۔ کانگریس کے معطل شدہ چار ارکان کو بھی بحال کردیا گیا ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جہاں مہنگائی کا مسئلہ پیش کیا گیا اور حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی وہیںحکومت نے ہمیشہ کی طرح منکرانہ رویہ ہی اختیار کیا ہے ۔ حقیقت سے انکار اور نظریں چرانے والے رویہ کے ذریعہ حکومت حقیقت کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ایسا ہو نہیں سکتا ۔ ملک میں مہنگائی انتہائی زیادہ ہوگئی ہے ۔اب تو حکومت کی جانب سے غذائی اجناس پر بھی پانچ فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا ہے ۔ اس کے ذریعہ بھی عوام کی تھالی تک روٹی پہونچنے میں مشکلات پیش آنے لگی ہیں۔ پہلے ہی سے دالوں اور خو ردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے عام آدمی پر بوجھ عائد ہو رہا تھا ۔ پکوان گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے نتیجہ میں خواتین کو مشکلات پیش آئیں اور ان کا گھریلو بجٹ بھی الٹ پلٹ ہوکر رہ گیا ۔ اس کے علاوہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے الگ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ فیول قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے بھی دوسری غذائی اور عام استعمال کی اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ مہنگائی کا مسئلہ ایسا ہے جس پر حکومت نے اب تک کوئی موثر کارروائی نہیں کی ہے اور نہ ہی حالات کو بہتر بنانے کیلئے کسی طرح کے اقدامات کئے گئے ۔ مہنگائی کے مسئلہ پر حکومت کوئی نہ کوئی بہانہ پیش کرتے ہوئے خود بری الذمہ ہوجاتی ہے اور عوام کو حالات کی مار کھانے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ لہسن کی قیمت کی بات آتی ہے تو وزیر فینانس کہتی ہیں کہ وہ لہسن نہیں کھاتیں اس لئے انہیں اس کی قیمت کا پتہ نہیں ہے ۔ اگر کوئی اور مثال پیش کی جاتی ہے تو اس سے صاف انکار کردیا جاتا ہے ۔ یہ طریقہ کار حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے اور اس کے ذریعہ عوام کو کوئی راحت بھی ملنے واہی نہیں ہے ۔
آج پارلیمنٹ میں مباحث کے دوران بی جے پی رکن پارلیمنٹ جئینت سنہا کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں افراط زر کی تلاش میں ہیں جبکہ ملک میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔ اس طرح انہوں نے ملک میں مہنگائی ہونے سے ہی انکار کردیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کا غذائی اجناس پر مکمل کنٹرول ہے اور سابق میںایسا کبھی نہیں ہوا تھا ۔ یہ تو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔ آج سارے ملک میں عوام مہنگائی کی وجہ سے بدحال اور پریشان ہیں۔ عام آمدی کیلئے دو وقت کی روٹ حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ دال چاول سے لے کر تیل اور دودھ تک کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ انڈے اور ادویات بھی عام آدمی کی پہونچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ پکوان گیس کی قیمتیں مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کے دام بڑھ گئے ہیں ۔ یہ ساری صورتحال ایسی ہے جس کے نتیجہ میں حکومت کا ہٹ دھرمی والا رویہ عوام کے سامنے آنے لگا ہے ۔ جہاں ملک کے ہرطبقہ کے لوگ مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں وہیں حکومت کس اس بات سے کوئی سروکار نہیں رہ گیا ہے ۔ وہ حقیقت کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہے ۔ اس کی بجائے حکومت مہنگائی کے وجود سے ہی انکار کررہی ہے ۔ حکومت کو ملک کے عوام کی مشکلات اور پریشانیوں کا کوئی احساس نہیں رہ گیا ہے اور وہ صرف اپنے اقتدار اور اکثریت کے زعم میں اس حد تک مبتلا ہے کہ وہ عوامی مشکلات و پریشانیوں کا اعتراف تک کرنے کو تیار نہیں ہے ۔
مہنگائی سے انکار در حقیقت سورج سے انکار کے برابر ہوگیا ہے ۔ سرکاری ڈاٹا حکومت کے پاس ہے ۔ گذشتہ چند برسوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میںاضافہ کس حد تک ہوا ہے اس کے اعداد و شمار خود حکومت کے پاس دستیاب ہوسکتے ہیں۔ ان کا جائزہ لینے کی بجائے حقیقت سے انکار کرتے ہوئے حکومت اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے لگی ہے ۔ حکومت حقیقت سے نظریںچراتے ہوئے عوام کی تکالیف سے خود کو الگ تھلگ کر رہی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اس کے ذمہ دار حقیقت کو قبول کریں۔ صورتحال کا کوئی بہتر حل نکالنے کی کوشش کریں۔ ملک کے عوام کو اعتماد میں لیا جائے ۔ ان پر سے مہنگائی کے بوجھ کو کم سے کم کرنے کیلئے جامع اور موثر اقدامات کئے جائیں۔
