اہم سرکاری دفاتر کی موجودگی کے باوجود عوامی مسائل جوں کے توں برقرار ۔ کانگریس ۔ بی آر ایس میں اصل مقابلہ ‘ بی جے پی منظر سے غائب
حیدرآباد۔16۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں حلقہ خیریت آباد ایک ایسا حلقہ ہے جہاں نہ صرف پاش رہائشی آبادیاں ہیں بلکہ سلم بستیاں بھی ہیں اور پاش تجارتی علاقوں کے علاوہ اس میں تمام سرکردہ سرکاری دفاتر ہیں جہاں سے ریاست کے امور چلائے جاتے ہیں۔ حلقہ خیریت آباد تشکیل تلنگانہ کے بعد 2014 میں ایک معیاد کیلئے بی جے پی کے قبضہ میں رہا جبکہ 2018 میں کانگریس سے بی آر ایس میں شامل ڈی ناگیندر نے اس حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی۔سابق رکن اسمبلی بی جے پی چنتالہ رامچندر ریڈی 2014 سے 2018تک کی رکن اسمبلی رہنے کے باوجود اس بار مقابلہ میں دور تک نہیں ہیں۔ خیریت آباد میں کانگریس امیدوارہ پی وجیہ ریڈی اور بی آر ایس امیدوار ڈی ناگیندر میں مقابلہ ہے جبکہ حلقہ کی عوام کی تائید کانگریس امیدوارہ پی وجیہ ریڈی کو ملنے لگی ہے۔ رائے دہندوں کا کہناہے کہ اس حلقہ کیلئے پی وجیہ ریڈی کے والد آنجہانی پی جناردھن ریڈی نے جو کام کئے وہ ناقابل فراموش ہیں اور گذشتہ دو انتخابات میں جو غلطیاں ہوئی ہیں اب انہیں دہرایا نہیں جاسکتا۔ اس کے علاوہ ریاست میں کانگریس حکومت کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں ایسے میں برسراقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی کا انتخاب علاقہ کی ترقی کا ضامن ہوگا ۔ حلقہ خیریت آباد سے فی الحال برسراقتدار بی آر ایس رکن اسمبلی ڈی ناگیندر ہونے کے باوجود علاقہ کی ترقی نہ ہونے کی شکایات پر عوام کا کہنا ہے کہ ڈی ناگیندر حرکیاتی لیڈر نہ ہونے کے علاوہ عوامی مسائل سے زیادہ انہیں بلڈرس اور دیگر تجارتی اداروں کے مسائل میں دلچسپی رہی اسی لئے انہو ںنے حلقہ کی سلم بستیوں کے علاوہ سرکردہ رہائشی علاقوں کے عوام کے مسائل کو نظرانداز کردیا جس کے نتیجہ میں عوام میں ان کے متعلق شدید ناراضگی ہے۔ خیریت آباد حدود میں جو سرکردہ سرکاری دفاتر ہیں ان میں تلنگانہ سیکریٹریٹ‘ پولیس کمانڈ کنٹرول روم و پولیس کمشنر آفس ‘ مجلس بلدیہ حیدرآباد‘ واٹر اینڈ سیوریج کے علاوہ چیف راشننگ آفیسر اور دیگر کئی دفاتر شامل ہیں اس کے باوجود اس علاقہ کے عوام کے مسائل ان دفاتر میں ہی زیر التوا ہیں جنہیں حل کروانے متعلقہ رکن اسمبلی کے پاس وقت نہیں ہے۔ خیریت آباد شہر کے حلقوں میں ایک ایسا حلقہ ہے جہاں مسلمانوں ‘ مساجد کی کمیٹیوں اور محلہ واری ذمہ داروں کا ایک وفاق موجود ہے جو کہ علاقہ کے امور کے متعلق آگہی حاصل کرکے ان کی یکسوئی کیلئے مسلسل نمائندگی کرتا ہے اس وفاق کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ حلقہ خیریت آباد کے مسلمانوں نے اجتماعی فیصلہ کرلیا کہ وہ اس بار کانگریس کو کامیابی بنانے متحدہ طور پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے تاکہ ان کے بنیادی مسائل کو حل کروایا جاسکے۔ موجودہ رکن اسمبلی ڈی ناگیندر اپنے حلقہ میں کامیابی کیلئے ’اویسی برادران ‘ پر انحصار کئے ہوئے ہیں اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی انتخابی مہم میں اویسی برادران کو مدعو کیا جائے لیکن مقامی عوام کا کہنا ہے کہ گذشتہ انتخابات میں اسدالدین اویسی نے خیریت آباد میں ناگیندر کی تائید کا اعلان کرکے وعدہ کیا تھا کہ مقطعہ مدار صاحب ریلوے کراسنگ پر ریل اوور برج کو یقینی بنایا جائے گا اس کے علاوہ مقطعہ میں مکانات اور تعمیرات کو باقاعدہ بنانے احکامات کی اجرائی کا بھی وعدہ کیا گیا تھا لیکن ان وعدوں کو پورا نہیں کیا جاسکا ہے۔ اسی لئے اگر اس مرتبہ مجلس ڈی ناگیندر کی تائید کرتی بھی ہے تو ناگیندر کو مسلمانوں کے ووٹ ملنے کے امکانات موہوم ہیں جبکہ کانگریس امیدوارہ پی وجیہ ریڈی کو مسلمانوں کے علاوہ پسماندہ طبقات ‘ دلتوں و عیسائیوں کے علاوہ دیگر ووٹرس کی تائید ملنے لگی ہے اور وجیہ ریڈی اسی حلقہ سے دو مرتبہ کارپوریٹر ہونے کے سبب عوام میں مقبول اور حرکیاتی لیڈر کی حیثیت سے شناخت رکھنے کے علاوہ غریب عوام کا ساتھ دینے والی ہیں اسی لئے ووٹرس نے ان کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کا ذہن بنالیا ہے ۔ بی جے پی امیدوار و سابق رکن اسمبلی چنتالہ رامچندرریڈی خیریت آباد سے امیدوا رہیں لیکن وہ عوام میں نہیں ہیں اور ان کی کمزور مہم سے حلقہ کے ووٹرس کو احساس ہونے لگا کہ بی جے پی امیدوار اب مقابلہ میں ہی نہیں ہیں اسی لئے صرف کانگریس اور بی آر ایس میں ہی مقابلہ باقی رہ گیا ہے۔