غزہ : حماس نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں تاریخی عمارتوں کی حفاظت کرے، اور کہا ہے کہ اسرائیل کے حملے نے فلسطینی علاقہ کے قدیم ترین چرچ، آخری ترک حمام اور صدیوں قدیم مساجد کو کھنڈرات میں بدل دیا ہے۔ جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج اور تصاویر میں غزہ شہر کی سب سے بڑی اور قدیم مسجد عمری الکبیر کو ملبے کا ڈھیر دکھایا گیا ہے۔ اردگرد کے علاقہ کی تباہی کے ساتھ جو کم از کم پانچویں صدی سے عیسائیوں اور مسلمانوں کا مقدس مقام رہا ہے، مسجد کے صرف مینار ہی برقرار دکھائی دے رہے تھے۔ حماس کی آثارِ قدیمہ کی وزارت نے اسرائیلی فوج کی طرف سے ’’تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے مقامات کی توڑ پھوڑ‘‘ کی مذمت کی، جس نے 7 اکتوبر کو حماس کے عسکریت پسندوں کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری کی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی تاریخ کے بدترین حملے میں جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے، ان میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ حماس کے زیر انتظام علاقہ کی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل کی انتقامی مہم میں غزہ میں تقریباً 17,500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ حماس کی وزارت نے کہا کہ دنیا اور یونیسکو کو اس عظیم تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے حرکت میں آنا چاہئیے۔ وزارت کا اندازہ ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 104 مساجد کو مسمار کیا جا چکا ہے۔