حکومت سازی کے نئے طریقے

   

Ferty9 Clinic

جمہوریت میں عوام کی تائید اور ان کے ووٹ سے منتخب ہونے والے افراد حکومت سازی کرتے ہیں۔ حکومتوں کا قیام اور ان کا زوال عوام کے ووٹوں سے ممکن ہوتا ہے ۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعہ ارکان اسمبلی یا ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کرتے ہیں اور نو منتخب ارکان پارلیمنٹ یا ارکان اسمبلی اپنے لیڈر کا انتخاب عمل میں لاتے ہوئے اسے وزیراعظم یا ریاستوں کا چیف منسٹر بناتے ہیں۔ جمہوری عمل کا یہی طرہ امتیاز رہا ہے کہ عوام کے ہاتھ میں سارا اختیار ہوتا ہے اور وہی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے کسی کی بھی سیاسی قسمت بناسکتے ہیں یا بگاڑ سکتے ہیں۔ بڑی بڑی جماعتوں کو اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے کسی بھی دوسرے کو اقتدار حوالے کرسکتے ہیں۔ تاہم اب ملک میں ایسا لگتا ہے کہ عوام کے ووٹ سے حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہونے کے بعد پچھلے دروازے سے حکومتیں بنانے کی ایک روایت بن گئی ہے اور اس کو ایک طرح سے مرکزی حکومت کی تائید و حمایت بھی مل رہی ہے ۔ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کی جانب سے اسمبلی انتخابات میں حکومت بنانے میں ناکامی کے بعد اب تک تین ریاستوں میں ارکان اسمبلی یا دوسرے قائدین کے انحراف کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے منتخبہ حکومتوں کا تختہ الٹ دیا گیا ہے ۔ خود بی جے پی ان ریاستوں میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔ اس کی شروعات میں مدھیہ پردیش اور کرناٹک کو نشانہ بنایا گیا ۔ دونوں ریاستوں میں کانگریس کے اقتدار کو انحراف کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ختم کردیا گیا ۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس تنہا اقتدار میں تھی وہاں اس کے سینئر لیڈر جیوتر آدتیہ سندھیا کو انحراف کیلئے اکسایا گیا ۔ انہیں راجیہ سبھا کی رکنیت اور مرکزی وزارت بھی دیدی گئی ۔ یہ کانگریس میں بغاوت کرنے اور بی جے پی کیلئے درکار ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ لا کر بی جے پی میںشامل کروانے کا انعام تھا ۔ کانگریس نے یہاں عوام کے ووٹ سے اقتدار حاصل کیا تھا تاہم بی جے پی نے اس کو زوال کا شکار کرتے ہوئے خود مدھیہ پردیش میںحکومت بنالی اور شیو راج سنگھ چوہان دوبارہ ریاست کے چیف منسٹر بن گئے ۔
پھر کرناٹک میں بھی ایسا ہی کچھ کیا گیا ۔ کانگریس اور جنتادل ایس کی حکومت کو زوال کا شکار کرنے کیلئے اس کے بھی ارکان اسمبلی کو انحراف کیلئے اکسایا گیا ۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کرتے ہوئے یا پھر عہدوں اور وزارتوں کا لالچ دیتے ہوئے ارکان اسمبلی کو انحراف کیلئے مجبور کیا گیا اور پھر ایوان کی عددی طاقت کو گھٹاتے ہوئے بی جے پی نے اقتدار حاصل کرلیا ۔ ضمنی انتخاب میں انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کی اکثریت کی کامیابی کو یقینی بنایا گیا ۔ یہاں بھی کانگریس اور جے ڈی ایس کو عوامی تائید سے اقتدار حاصل ہوا تھا لیکن عوامی رائے کو پامال کرتے ہوئے بی جے پی نے اقتدار پرپچھلے دروازے سے قبضہ کرلیا ۔ پھر باری آئی مہاراشٹرا کی ۔ بی جے پی سے برسوں تعلق رکھنے والی شیوسینا نے جب کانگریس اور این سی پی سے اتحاد کرتے ہوئے خود اقتدار حاصل کیا تو اسی وقت سے حکومت کے خلاف سازشیں شروع ہوگئی تھیں۔ بالآخرایکناتھ شنڈے کی قیادت میں انحراف کروادیا گیا ۔ شیوسینا ارکان اسمبلی کی اکثریت کو دوسری بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میںمنتقل کرتے ہوئے مہا وکاس اگھاڑی کی ادھو ٹھاکرے حکومت کو اقتدار سے محروم کردیا گیا اورایکناتھ شنڈے کی تائید کرتے ہوئے مہاراشٹرا میںحکومت بنادی گئی اوربی جے پی بھی اس کا حصہ بن گئی ۔ حالانکہ اقتدار ایکناتھ شنڈے کو حاصل ہوا لیکن اصل طاقت بی جے پی کے ہاتھ ہی میںہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ اس بار مغربی بنگال کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ بھی بی جے پی کے نشانہ پر ہے لیکن بی جے پی لیڈر متھن چکرورتی نے آج جو بیان دیا کہ ترنمول کانگریس کے 38 ارکان اسمبلی بی جے پی سے رابطہ میںہیں یہ اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کہ اس بار مغربی بنگال کی ترنمول حکومت کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ یہ کام بی جے پی کیلئے اتنا آسان نہیں ہوگا لیکن بی جے پی اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ۔ پچھلے دروازے سے حکومت سازی کی جو روایت شروع کردی گئی ہے وہ جمہوریت کیلئے سنگین خطرہ ہے اور جمہوریت پسند تمام طاقتوںکو اس کے خلاف نبردآزما ہونا چاہئے ۔