حیدرآباد ۔ 4 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی ہریش راؤ نے ریاست کے قرضوں کے معاملے میں ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرامارکا کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں انہوں نے کہا کہ ان سے ان کے دور اقتدار میں لیے گئے قرضوں کے بارے میں کوئی کتنی بار بھی پوچھ لیں ان کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہے گا اور سچائی کبھی نہیں بدلے گی ۔ انہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر کے دعوؤں کو سفید جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے وزراء صرف اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور سیاسی خسارے کو پورا کرنے کے لیے ’ ڈیمیج کنٹرول ‘ کی سیاست کررہے ہیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھٹی وکرامارکا نے پریس کانفرنس کے ذریعہ جو اعداد و شمار پیش کئے وہ بالکل فرضی ہیں اور ایسے غیر موجود قرضوں کو جس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ اعداد و شمار کی جادوگری کے ذریعہ ایسا بناکر پیش کیا گیا جیسے ریاست پر بہت بڑا بوجھ ہو ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں صرف 4.17 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض سرکاری خزانے ( بجٹ ) کے تحت لیا گیا تھا ۔ جہاں تک کارپوریشنس کے ذریعہ لیے گئے دیگر قرضوں کا تعلق ہے تو خود کانگریس حکومت کی جانب سے اسمبلی میں جاری کردہ وائیٹ پیپر میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ان کارپوریشنوں کے قرضوں کی ادائیگی وہ خود اپنے ذرائع سے کریں گی ۔۔ 2/m/b
ہریش راؤ نے طنزیہ کہا کہ بھٹی وکرامارکا کے غصہ ہونے یا نمبرون کی ہیرا پھیری کرنے سے حقیقت نہیں بدل جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے انتخابی وعدوں سے انحراف کرنے کے لیے قرض کا بہانہ کیا جارہا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے حد کردی ہے ۔ کانگریس حکومت کے قرضوں کو بھی بی آر ایس کے کھاتے میں ڈال کر یہ دکھانے کی کوشش کی کہ یہ پرانا قرض ادا کیا گیا ۔۔ 2/m/b