حکومت نے پرانے شہر کی ترقی کے اعلانات کو بھی فراموش کردیا

,

   

٭ نہ چنچل گوڑہ جیل منتقل ہوئی اور نہ ریس کورس کو منتقل کیا گیا
٭ کے جی تا پی جی تعلیمی اداروں کے قیام کے کوئی آثار نہیں
٭ ساـؤتھ زون میں آئی ٹی راہداری کا بھی کہیںتذکرہ نہیں

٭ وعدہ کے بغیر گچی باؤلی تا شمس آباد میٹرو ریل پراجیکٹ کا آغاز
٭ ورنگل میں جیل کی جگہ سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کی تعمیر تقریبا مکمل
٭ پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجیکٹ کیلئے کوئی پہل تک نہیں

حیدرآباد۔3۔فروری(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے پرانے شہر کی ترقی کیلئے اعلانات محض اعلان کی حد تک محدود ہوتے ہیں جبکہ پرانے شہر کے علاوہ کسی اور علاقہ میں ترقیاتی کاموں کا اعلان ہی نہیں کیا جاتا بلکہ ان میں ترقیاتی کاموں کی رفتار بھی کافی تیز ہوتی ہے خواہ وہ شہر کے نواحی علاقوں میں ہو یا پھر اضلاع میں ۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ حکومت نے چنچل گوڑہ جیل کو منتقل کرکے اس کی جگہ کے جی تا پی جی تعلیمی اداروں کے قیام کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدہ پر گذشتہ 9 برسوں کے دوران عمل تو نہیں ہوا اور اس بار بجٹ اجلاس میںایک مرتبہ پھر اس مسئلہ کے زیر بحث لائے جانے کا امکان ہے ۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ تحریک تلنگانہ کے دوران پرانے شہر میں آئی ٹی پارک کے قیام کے علاوہ کے جی تا پی جی تعلیمی اداروں کے قیام کا مسلسل وعدہ کرتے رہے ہیں اور ریس کورس کو شہر کے باہر منتقل کرنے اور چنچل گوڑہ جیل کو بھی منتقل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن دونوں ہی وعدوں پر اب تک کوئی عمل آوری نہیں کی گئی جبکہ ورنگل جیل کی جگہ سوپر اسپشالیٹی ہاسپٹل کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا لیکن حکومت نے کا فیصلہ کرکے عمل کا آغاز کیا اور جیل کی منتقلی کے ذریعہ ہاسپٹل کی عمارت کی تعمیر کے کاموں کو بڑی حد تک مکمل کرلیا گیا ۔ لیکن ریس کورس اور چنچل گوڑہ جیل کی منتقلی میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی ۔ اب جبکہ انتخابات قریب ہیں تو ریس کورس کی جگہ انفارمیشن ٹکنالوجی پارک کی بات چیت شروع کردی گئی ہے جو سال 2017 کے دوران بھی کی گئی تھی ۔ تلنگانہ میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے سے قبل کے سی آر نے اسمبلی میں ساؤتھ زون میں انفارمیشن ٹکنالوجی راہداری کے فروغ کے اقدامات کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت سے مادھاپور‘ اپل کے طرز پر شہر کے ساؤتھ زون میں بھی آئی ٹی مراکز کے قیام کے علاوہ سہولتوں کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن اب جبکہ قیام تلنگانہ کے بعد تیسرے اسمبلی انتخابات قریب ہیں اب تک قیام تلنگانہ سے قبل کے وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔چیف منسٹر نے چنچل گوڑہ جیل کی منتقلی کے سلسلہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے جائزہ اجلاس بھی طلب کیا تھا لیکن اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔تشکیل تلنگانہ کے بعد سے پرانے شہر کی مجموعی ترقی بالخصوص کوکٹ پلی ‘ ونستھلی پورم‘ مادھاپور‘ شمس آباد کے علاوہ دیگر علاقوں کے طرز پر ترقی کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیری و ترقیاتی کاموں کیلئے گذشتہ بجٹ کے دوران 500 کروڑ کی تخصیص کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تاحال پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کا آغاز نہیں کیا گیا جبکہ گذشتہ انتخابات کے اعلان سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ اندرون ایک ہفتہ پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیری کاموں کا آغاز کردیا جائیگا۔شہر کے نواحی علاقوں مادھا پورسے شمس آباد تک میٹروریل کیلئے حکومت سے کوئی اعلان یا بجٹ کی تخصیص عمل میں نہیں لائی گئی تھی بلکہ حکومت نے اسمبلی میں میٹرو ریل کو توسیع دینے کی منصوبہ کا تذکرہ کیا تھا اس کے باوجود مادھاپور میں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے گچی باؤلی تا شمس آباد میٹرو ریل کے کاموں کا نہ صرف سنگ بنیاد رکھا بلکہ اس پراجکٹ پر حکام نے ترقیاتی کام بھی شروع کردیئے ہیں ۔ عوام یہ استفسار کررہے ہیں کہ آیا حکومت پرانے شہر کے عوام کو شہری تصور نہیں کرتی یا پرانے شہر کی ترقی کیلئے اقدامات میں کوئی رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے!حکومت کیوں پرانے شہر کی ترقی کے متعلق سنجیدہ نہیں اور کیوں پرانے شہر کے پراجکٹس کو اعلانات کی حد تک رکھا جاتا ہے اور ترقیاتی کاموں سے گریز کرکے محض وعدے کئے جاتے ہیں! ۔