حکومت وکسانوں کی آج دسویں دور کی بات چیت

   


کسان اپنی ضد چھوڑدیں، حکومت تمام اُمورپر بات چیت کیلئے تیار : وزیر زرعت

گوالیار: زراعت اور کسان بہبود کے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومرنے کہا ہے کہ مرکزی حکومت تمام معاملات پر کسان تنظیموں کے ساتھ کھلے دل سے بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کاشتکاروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسان تنظیموں کو کوئی اعتراض ہے تو وہ 19 جنوری کو ہونے والے مذاکرات میں نئے زرعی قوانین کی شقوںپر تبادلہ خیال کریں۔ حکومت کسان تنظیموں کے ساتھ کھلے دل کے ساتھ تمام امور پر بات کرنے کے لئے تیار ہے۔نریندر سنگھ تومر نے کل ایک خصوصی بات چیت میں کہا کہ مرکزی حکومت نے کسان یونینوں سے ایک بار نہیں، 9 بار اور گھنٹوں تک بات چیت کی۔ اس دوران کسان یونینوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ قانون کی شق پر بحث کریں اور انہیں بتائیں کہ انہیں کہاں کہاں اعتراض ہے، حکومت اس پر غور اور ترمیم کرنے کے لئے تیار ہے۔ حال ہی میں جب کسان یونین نئے قوانین کی شق پر بات نہیں کر پا رہی تھی، تب حکومت نے بات چیت کے دوران جو نکات ذہن میں آئے، ان نکات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے بعد بعض امور کی نشاندہی کے کسان یونینوں کو ایک تجویز بھیجی گئی جس میں کچھ ترامیم کرنے بات کہی گئی ہے۔نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ اب جبکہ سپریم کورٹ نے ان قوانین پر روک لگا دی ہے تو ایسے میں کسانوں کا اپنی ضد پر برقرار رکھنے کا کوئی مطلب نہیں اٹھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ کسان لیڈر 19 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں قانون کے ہر دفعہ پر تبادلہ خیال کے لئے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ چھوڑ کر، حکومت ’سنجیدگی سے اور کھلے دل کے ساتھ’ دیگر متبادل پر تبادلہ خیال کے لئے تیار ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے تین نئے زرعی قوانین کو نافذ ہونے پر 11 جنوری کو آئندہ حکم تک کے لئے روک لگا دی تھی۔ ساتھ ہی عدالت نے تعطل کا حل نکالنے کے لئے چار رکنی ایک کمیٹی بھی تشکیل ہے۔ نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت نے کچھ رعایتیں پیش کی تھیں، لیکن کسان لیڈروں نے اس میں نرمی کا رخ نہیں دکھایا اور وہ مسلسل قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔