کئی اہم بلوں پر حکومت پیچھے ہٹ گئی، نیٹ امتحان میں بے ضابطگی، ایتھنول میں ملاوٹ، بدعنوانی کلیدی موضوعات: کانگریس
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) کانگریس نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اختتام پر کہا ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد اس سیشن کی بڑی کامیابی رہا اور اس کے اجتماعی دباؤ کی وجہ سے حکومت کو کئی اہم بلوں پر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ کانگریس شعبہ مواصلات کے انچارج و راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ جے رام رمیش اور لوک سبھا میں کانگریس کے نائب قائد گورَو گگوئی نے جمعرات کو کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں، رام مندر ٹرسٹ میں چڑھاوے کی چوری، ایتھنول میں ملاوٹ، بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں میں کرپشن، چین سے جڑے مسائل اور عوامی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں بدعنوانی جیسے موضوعات پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت نے ان مسائل پر بحث نہیں کرائی۔ گگوئی نے کہا کہ طلباء کی تحریک کے دباؤ میں حکومت کو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لینا پڑا، لیکن وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی اور طلباء پر مظالم کے سلسلے میں بیان دینے کے مطالبے کو حکومت نے تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیشن کے آخری دن وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ ایوان میں آئے ، لیکن اس کے فوراً بعد کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ رمیش نے کہا کہ 11 سال پہلے 2015 میں ویاپم گھوٹالے کی وجہ سے مانسون سیشن متاثر ہوا تھا اور 11 سال بعد اس بار نیٹ معاملے کے باعث سیشن میں تعطل رہا۔ انہوں نے کہا کہ 18 دن تک اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی مسلسل میٹنگیں ہوئیں اور اپوزیشن کا اتحاد واضح طور پر سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے دباؤ کے باعث ’ایک ملک ، ایک انتخاب‘ بل، یونیورسٹیوں کی مرکزیت سے متعلق بل اور 130 ویں آئینی ترمیمی بل کی رپورٹ اس سیشن میں پیش نہیں ہو سکی، جبکہ فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل کو جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی ) کے پاس بھیج دیا گیا۔ رمیش نے کہا کہ حد بندی (ڈی لمیٹیشن) سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظور کرانے کے لیے حکومت دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ انہوں نے اسے اپوزیشن کے اتحاد کی اہم کامیابی قرار دیا اور کہا کہ مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیمی بل اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن ترمیمی بل بغیر کسی بحث کے منظور کر لیے گئے ۔
کانگریس نے دونوں بلوں کو جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔