اسلام آباد/16 جون (سیاست ڈاٹ کام) قرض اور قتصادی بحران سے دوچار پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران اس کے ذمہ 10.4 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی اورڈیفالٹ سے بچنے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ارب ڈالرکا ہنگامی قرضہ (کرائسس ریسپانس لون) مانگا ہے ۔ذرائع کے مطابق عالمی بینک کی پرنسپل پبلک مینجمنٹ سپیشلسٹ ہیرانیامکھواپادھیائے نے پاکستان کا دورہ مکمل کرلیا ہے جس میں ایک ارب ڈالر کے قرضہ کی تفصیلات طے کی گئیں۔‘اسپیشل پالیسی بیسڈ لینڈنگ ’’(ایس پی بی ایل )کے تحت قرضہ پانچ سے آٹھ سال کیلئے تقریباً 2 فیصد شرح سود پر دیا جاتاہے ۔پاکستان کیلئے اس قرضے کی منظوری ایشیائی بینک کا بورڈ آف ڈائریکٹرز دے گا۔اس قرضے کی منظوری کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے طے پانے والے 6 ارب ڈالر قرضہ کی میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسز کی تفصیلات کتنے عرصے میں ایشیائی بینک کے ساتھ شیئر کرتا ہے ۔پاکستان اور آئی ایم ایف میں چھ ارب ڈالر قرضہ کا معاہدہ 11 مئی کواسٹاف لیول سطح کے مذاکرات میں ہوا تھا۔ماضی کے برعکس ان مذاکرات میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے بطور مبصر شرکت نہیں کی تھی۔لہذا پاکستان نے ابھی تک ورلڈ بینک اور ایشیائی بینک کے ساتھ اس معاہدے کی میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسز کی تفصیلات شیئر نہیں کیں جو ایشیائی بینک کی طرف سے بجٹ خسارے اور بیرونی ادائیگیوں کیلئے ہنگامی قرضہ کی جلد منظوری میں آڑے آسکتی ہیں۔آئی ایم ایف کے بورڈآف ڈائریکٹرز میں پاکستان کیلئے چھ ارب ڈالر قرضہ کا کیس تین جولائی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔اس کے بعد میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسز کی تفصیلات قرضہ دینے والے دیگر اداروں کے ساتھ شیئرکی جاسکتی ہیں۔اس بات کا امکان ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا بورڈ آف ڈائرکٹرز اکتوبرکے آخری یا نومبر کے پہلے ہفتہ میں پاکستان کیلئے اس ہنگامی قرضے کی منظوری دے گا۔ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2017 میں پاکستان کی خراب میکرواکنامک صورتحال دیکھ کر اس کی بجٹری حمایت بند کردی تھی۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرزکی طرف سے اس سال اگست میں پاکستان کیلئے بجٹری سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والے 80 کروڑ ڈالرز میں سے 50 کروڑ ڈالر قرضہ کی منظوری کاامکان ہے ۔
