حکومت کو عوامی مسائل سے زیادہ شراب کی فروخت کی فکر، دکانات کے پرمٹس منسوخ کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 18 ڈسمبر (سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے اعلان کیا کہ حکومت کی شراب پالیسی کے خلاف عوامی احتجاج منظم کیا جائے گا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ چھ برسوں میں شراب کی فروخت کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وقت شراب کی فروخت سے حکومت کو 10 ہزار کروڑ کی آمدنی تھی جو گزشتہ چھ برسوں میں بڑھ کر 25 ہزار کروڑ ہوچکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سماج اور عوام کی بھلائی کو پیش نظر رکھتے ہوئے شراب کی فروخت پر کنٹرول کرے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر کو معاشی انحطاط کے نتیجہ میں صرف شراب سے آمدنی میں اضافے کی فکر ہے۔ وہ ایکسائز سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعہ حکومت چلانا چاہتے ہیں۔ سی ایل پی لیڈر نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی عوام پر بھاری بوجھ عائد کردیا ہے۔ اب شراب کی قیمت میں اضافہ کرتے ہوئے نیا بوجھ عائد کیا گیا۔ مشن بھگیرتا کے لیے حکومت نے جو قرض حاصل کیا ہے وہ شراب کی آمدنی کے ذریعہ چکانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹس کے لیے حاصل کردہ ہزاروں کروڑ کے قرض کی پابجائی کے لیے سماج کو برائیوں میں مبتلا نہیں کیا جاسکتا۔
حکومت قرض کا بوجھ عوام پر عائد کرتے ہوئے اپنا دامن بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شراب کو عام کرتے ہوئے غریب اور متوسط طبقات کو اس لعنت میں مبتلا کررہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ قرض حاصل کرنے کا سلسلہ بند کرے تاکہ عوام پر بوجھ کم کیا جاسکے۔ بھٹی وکرامارکا نے تلنگانہ میں بیلٹ شاپس، پرمٹ رومس اور قومی و ریاستی شاہراہوں پر دکانات کی اجازت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کی شرح میں کمی کے لیے ضروری ہے کہ شراب کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ حکومت کے محکمہ کا نام پروہبیشن اور ایکسائز ہے لیکن حکومت نے نشہ بندی کی ترغیب کے بجائے شراب کو عام کرنے کے لیے اس محکمے کا استعمال کیا ہے۔ عوام کی منظوری کے بغیر بینکوں سے قرض کا حصول نقصاندہ ثابت ہورہا ہے۔ انہوں نے وزیر فینانس ہریش رائو کے اس دعوے کو مضحکہ خیز قراردیا کہ ریاست میں معاشی انحطاط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بدحالی کا چیف منسٹر نے حال ہی میں کابینہ کے اجلاس میں اعتراف کیا تھا جس کی بنیاد پر مرکز سے اضافی فنڈس کی اپیل کی گئی۔ بھٹی وکرامارکا نے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ ہر معاملہ میں قرض کے حصول کی کوششوں کو ترک کردیں۔