اسمبلی الیکشن سے زیادہ ووٹ حاصل ہوں گے، مرکز میں انڈیا الائینس کا برسر اقتدار آنا یقینی، تلنگانہ کا ماحول بگاڑنے بی جے پی کی ساز ش
حیدرآباد۔/13 مئی، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تلنگانہ میں کانگریس کو اسمبلی انتخابات سے زیادہ ووٹ حاصل ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو 39.5 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے اور اس مرتبہ ووٹ فیصد میں مزید اضافہ ہوگا۔ کوڑنگل میں افراد خاندان کے ساتھ حق رائے دہی سے استفادہ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ لوک سبھا چناؤ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی 100 دن کی کارکردگی پر ریفرنڈم ہے۔ بی جے پی قائدین لوک سبھا چناؤ کو نریندر مودی حکومت کی کارکردگی پر ریفرنڈم قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر 2025 کو نریندر مودی 75 سال کے ہوجائیں گے۔ بی جے پی میں عمر کی حد پر عمل کیا جائے تو پارٹی کو نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرنا چاہیئے۔ ریونت ریڈی نے مرکز میں کانگریس زیر قیادت انڈیا الائینس حکومت کی تشکیل کا دعویٰ کیا اور کہا کہ این ڈی اے کو اقتدار سے بیدخل کرنے کا عوام نے فیصلہ کرلیا ہے۔ مرکز میں این ڈی اے کو اکثریت حاصل نہ ہونے کی صورت میں کوئی بھی پارٹی تائید کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے 400 پار کے نعرہ کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی 336 نشستوں پر مقابلہ کررہی ہے پھر 400 نشستیں کہاں سے حاصل ہوں گی۔ 13 سال تک چیف منسٹر اور 10 سال وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز رہنے والے نریندر مودی دستور ہند کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ تحفظات ختم کرنے بی جے پی پر سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ملک میں کسی بھی طبقہ کو مذہب کی بنیاد پر تحفظات نہیں ہیں۔ سماجی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات فراہم کئے گئے۔ مسلم تحفظات ختم کرنے تلنگانہ میں مودی اور امیت شاہ کے اعلانات پر تبصرہ کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ تحفظات کے مسئلہ پر بی جے پی کا دوہرا معیار ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ این ڈی اے اتحاد آندھرا پردیش میں مسلم تحفظات کو ختم کرنے کا اعلان کیوں نہیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ انڈیا الائینس کے نام پر ہم عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں جبکہ بی جے پی نریندر مودی کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کون نامدار ہے اور کون کامدار ہے۔ انہوں نے کمزور طبقات کی بھلائی کیلئے اقدامات کے مسئلہ پر بی جے پی کو مباحث کا چیلنج کیا اور کہا کہ ملک میں مخالف نریندر مودی لہر واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نریندر مودی اور دیگر بی جے پی قائدین کے متنازعہ بیانات پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ نریندر مودی نے تحفظات ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی اُسی طرح نونیت کور نے 15 سیکنڈ کا متنازعہ بیان دیا لیکن الیکشن کمیشن خاموش ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کو چاہیئے تھا کہ وہ متنازعہ بیانات پر پولیس میں شکایت درج کراتی برخلاف اس کے ایک وائرل ویڈیو کا بہانہ بناکر مرکزی وزارت داخلہ نے میرے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ چیف منسٹر نے قومی تحقیقاتی ایجنسیوں کو اپوزیشن کے خلاف استعمال کرتے ہوئے ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بی جے پی کی واشنگ مشین میں دھلائی کے بعد کئی بدعنوان قائدین کے مقدمات ختم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے اڈانی اور امبانی کی جانب سے کانگریس کو الیکشن فنڈ کے بارے میں مودی سے وضاحت طلب کی۔ اڈانی اور امبانی کے دفاتر اور مکانات پر سی بی آئی، انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے عہدیداروں کو بھیج کر مودی کو جانچ کرنی چاہیئے۔ اگر وزیر اعظم کا الزام درست ہے تو پھر اڈانی اور امبانی کے خلاف کارروئی کیوں نہیں؟ ۔ چیف منسٹر نے 15 اگسٹ سے قبل کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت کیلئے یہ ناممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں امن و ضبط کی صورتحال بگاڑ کر سرمایہ کاری گجرات منتقل کرنے کی بی جے پی سازش کررہی ہے۔ اُتر پردیش کی طرح صورتحال تلنگانہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ریونت ریڈی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کے سی آر سے انہیں ہمدردی ہے وہ دراصل ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہوکر بیانات دے رہے ہیں۔ کے سی آر اور کے اے پال کے بیانات میں کوئی فرق نہیں۔1