حکومت کے پروگراموں میں بی آر ایس ارکان اسمبلی کی شرکت پر سیاسی ہلچل

   

کانگریس میں شمولیت کی قیاس آرائیاں ، لوک سبھا چناؤ سے قبل ارکان اسمبلی کی تعداد میں اضافہ ریونت ریڈی کا منصوبہ
حیدرآباد ۔11۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت کے خاتمہ کے بعد کانگریس نے اقتدار سنبھالا ہے۔ کانگریس کو 119 رکنی تلنگانہ اسمبلی میں 64 ارکان کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل ہے جبکہ بی آر ایس کو 39 نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی اپوزیشن ارکان کو انحراف کیلئے ترغیب دینے کی روایات کا احیاء عمل میں آسکتا ہے ۔ 2014 اور 2018 ء اسمبلی چناؤ کے بعد کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے کئی ارکان نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ ریونت ریڈی جنہیں اسمبلی میں 64 ارکان کی تائید حاصل ہے، وہ دو دہائی اکثریت کا نشانہ رکھتے ہیں جس کیلئے بی آر ایس کے بعض ارکان اسمبلی سے ربط کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس کے بعض ارکان اسمبلی نے منتخب ہونے کے بعد سے کانگریس کی طرف اپنا جھکاؤ ظاہر کیا ہے ۔ گزشتہ دنوں کانگریس حکومت کی دو اہم ضمانتوں پر عمل آوری کا آغاز ہوا اور اس سلسلہ میں ہر اسمبلی حلقہ میں پر وگرام منعقد کئے گئے ۔ آروگیہ شری اسکیم کے تحت 10 لاکھ روپئے تک مفت علاج اور خواتین کو آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت کے آغاز کے سلسلہ میں مقامی ارکان اسمبلی کی نگرانی میں پروگرامس منعقد کئے گئے ۔ بی آر ایس کے بیشتر ارکان نے حکومت کے پروگراموں سے خود کو دور رکھا جبکہ دو ارکان اسمبلی ٹی سرینواس یادو اور دانم ناگیندر نے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ارکان اسمبلی کانگریس قیادت سے ربط میں ہیں۔ بی آر ایس کی حلیف مجلس کے ارکان اسمبلی نے اپنے حلقہ جات میں حکومت کی اسکیمات کے آغاز کی تقریب میں شرکت کی۔ اب جبکہ آئندہ سال اپریل یا مئی میں لوک سبھا انتخابات مقرر ہیں، لہذا کانگریس پارٹی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کا نشانہ رکھتی ہے تاکہ لوک سبھا چناؤ میں پارٹی بہتر مظاہرہ کرسکے۔ اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے لئے 80 ارکان کی ضرورت ہے اور کانگریس کو 16 ارکان کی ضرورت پڑے گی۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی بھدرا چلم کے بی آر ایس رکن اسمبلی ڈاکٹر وینکٹ راؤ نے ریونت ریڈی سے ملاقات کی تھی ۔ مقامی قائدین پی سرینواس ریڈی اور ٹی ناگیشور راؤ کے ہمراہ یہ ملاقات کی گئی۔ بی آر ایس قیادت نے فوری وینکٹ راؤ سے ربط قائم کیا جس کے بعد انہوں نے کے سی آر سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت کی تردید کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس کو 2015 اور 2019 میں کانگریس ارکان کے انحراف کی طرح اس مرتبہ بی آر ایس ارکان کے انحراف کا اندیشہ ہے ۔ 2015 میں تلگو دیشم کے 12 ارکان اسمبلی نے اس وقت کی ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے لیجسلیچر پارٹی کو ضم کردیا تھا ۔ 2019 میں کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ریونت ریڈی اسمبلی میں بی آر ایس کو کمزور کرنے کا کوئی موقع نہیں گنوائیں گے ۔ جس طرح کے سی آر نے دو مرتبہ کانگریس کو کمزور کیا ، اسی طرح ریونت ریڈی بھی موقع کی تلاش میں ہیں۔ لوک سبھا انتخابات کے علاوہ ڈسمبر 2025 ء میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات مقرر ہیں، دونوں چناؤ میں کانگریس کے بہتر مظاہرہ کیلئے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو شامل کیا جاسکتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کانگریس کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ جبکہ بی آر ایس کو 24 میں 16 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق گریٹرحیدرآباد سے منتخب ارکان اسمبلی کو کانگریس نشانہ بناسکتی ہے۔