حکومت کے چنگل سے مندروں کو آزاد کرانے کی قرارداد منظور

   

پنجی: گوا میں آل انڈیا ہندو راشٹر کنونشن کے ایک حصے کے طور پر منعقد ہونے والی ’پہلی ہندو پارلیمنٹ‘نے منگل کو ایک قرارداد منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ہندو مندروں کو حکومت کے چنگل سے آزاد کر کے عقیدتمندوں کے حوالے کیا جائے ۔ تاہم، اس معاملے پر دو گھنٹے سے زیادہ غور و خوض کے بعد پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں مندروں میں صرف ہندو عہدیداروں کا تقرر کیا گیا اور احاطے کے ارد گرد نان ویجیٹیرین کھانے کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔دراصل دسویں بھارتیہ ہندو راشٹر کنونشن کے دوسرے دن ہندو راشٹر سنسد میں ’مندروں کے مثالی انتظام‘ پر بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر مندر کے متعدد ٹرسٹیوں، عقیدت مندوں، وکلاء اور عقیدتمند ہندوؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس دوران اوڈیشہ کے انل دھیر نے اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دیں، ڈپٹی اسپیکر کے ہندو جنجاگرتی کے پرچارک نیلیش سنگبل اور سکریٹری کے فرائض آنند جاکھوٹیا نے ادا کیے ۔اس دوران نائب صدر نلیش سنگھبل نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کے ہر مندر کی دیویہ دولت کا غلط استعمال ہو رہا ہے ۔ پیسے کے صحیح استعمال کے لیے مندروں کا مثالی انتظام بہت ضروری ہے ۔