مردم شماری میں شکوک و شبہات دور کرنے حکومت سے ایم ایل سی کویتا کی خواہش، بی جے پی پر پسماندہ طبقات کی ترقی میں رکاوٹ کا الزام
نظام آباد۔ 26 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) صدر تلنگانہ جاگروتی و رکن قانون ساز کونسل بی آر ایس کے کویتا نے ذات پات پر مبنی مردم شماری اور پسماندہ طبقات (بی سیز) کو آئینی حقوق کی فراہمی کے معاملہ میں قومی جماعتوں کے غیر سنجیدہ رویہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ کے کویتا نے بی سی کمیشن میں صدر نشین وینکٹیشور رائو سے ملاقات کی اور انہیں 35 صفحات پر مشتمل ایک جامع رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کمیشن سے پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ کویتا نے علاقائی جماعتوں بالخصوص ریاست تلنگانہ میں کے سی آر حکومت کے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کے چندرشیکھر رائو نے ہمیشہ پسماندہ طبقات کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ اس کے برخلاف قومی جماعتیں کانگریس اور بی جے پی نہ صرف پسماندہ طبقات کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتی رہیں بلکہ پسماندہ طبقات کی بھلائی اور ترقی کے وعدوں کی تکمیل میں بھی ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے راہول گاندھی سے استفسار کیا کہ کانگریس پارٹی ملک میں برسوں برسراقتدار رہی تب کانگریس کو ذات پات پر مبنی مردم شماری کا کیوں خیال نہیں آیا؟۔ کرناٹک میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کی تفصیلات تاحال کیوں منظر عام پر نہیں لائی گئیں؟۔ انہوں نے ذات پات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت میں حلف نامہ داخل کرنے پر بی جے پی کو شدید ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ بی جے پی کا رویہ بی سیز، ایس سیزاور ایس ٹیز کے بنیادی حقوق کی نفی کے مترادف ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو پسماندہ طبقات کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ کویتا نے کہا کہ بی جے پی کے ڈی این اے میں بی سیز، ایس سیز اور ایس ٹیز مخالف سوچ پائی جاتی ہے۔ صدر تلنگانہ جاگروتی نے کانگریس پارٹی کی جانب سے کاماریڈی میں کئے گئے بی سی ڈکلریشن وعدے یاد دلائے۔ ان وعدوں میں مقامی اداروں میں بی سیز کے لئے 42 فیصد تحفظات کا وعدہ بھی شامل ہے۔ کویتا نے پرزور انداز میں کہا کہ کانگریس حکومت کو اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانا چاہئے اور ذات پات کی مردم شماری سے متعلق اپنے موقف کو واضح کرنا چاہئے۔ کویتا نے بی سی کمیشن کو آزادانہ اور موثر طریقہ کار کے ساتھ کام انجام دینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کمیشن کی سفارشات سیاسی مقاصد تک محدود رہنے کے بجائے بی سیز کے درپیش مسائل کی یکسوئی پر مبنی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی کمیشن فی الواقعی پسماندہ طبقات کے مسائل کی یکسوئی پر توجہ مرکوز کرے۔ کویتا نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ بی سی کمیشن کے قیام میں تاخیر اور حیدرآباد، رنگاریڈی اضلاع میں نامکمل گھریلو سروے باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ذات پات کی مردم شماری سے متعلق شکوک و شبہات کو دور کرے اور اپنا موقف واضح کرے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کے ساتھ تقاضائے انصاف کو ملحوظ رکھا جائے۔ رکن قانون ساز کونسل نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پسماندہ طبقات کے آئینی اور سماجی حقوق کی بحالی کے لئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ پسماندہ طبقات کے ساتھ مزید ناانصافی قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے قومی جماعتوں سے کہا کہ وہ محض وعدوں اور تیقنات پر اکتفا نہ کریں بلکہ سنجیدگی کے ساتھ پسماندہ طبقات کے مسائل کی یکسوئی کے لئے ٹھوس اقدامات روبہ عمل لائے۔