حیدرآبادی والدین کے سپوت ‘معاذ عثمان محمود کک باکسنگ کی دنیا کا ابھرتا ستارہ

   

اپنے جنون کو پورا کرنے شارجہ سے آسٹریلیا کا سفر ۔ سخت محنت کے بعد 2025 میں پروفیشنل مقابلوں کا آغاز ۔ ستمبر 2025 میں جیتا اوشیانا خطاب

حیدرآباد 27 مئی ( سیاست نیوز ) یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جہد مسلسل اور محنت کے ذریعہ پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کیا جاسکتا ہے ۔ حیدرآبادی والدین کے ہونہار سپوت معاذ عثمان محمود اسی جذبہ کی مثال بن گئے ہیں جو متحدہ عرب امارات میں پیدا ہوئے تھے ۔ شارجہ کی گلیوں سے نکل کر انہوں نے بین الاقوامی مقابلوں کے اسٹیج تک پہونچنے کے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا ہے ۔ یہ خواب معاذ عثمان محمود کی جدوجہد اور عزم و استقلال ہی کا نتیجہ تھا جب انہوں نے 2025 میں پروفیشنل کک باکسنگ مقابلوں کا آغاز کیا اور اسی سال انہوں نے باوقار اوشیانا خطاب بھی جیت لیا ۔ معاذ عثمان محمود حیدرآبادی والدین کے گھر پیدا ہوئے ۔ انہیں ابتداء ہی سے کک باکسنگ کا جنون تھا اور اسی جنون کی خاطر وہ محض 14 سال کی عمر میں آسٹریلیاء چلے گئے تاکہ اپنے اس خواب کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔ زندگی کی آسائشوں کو قربان کرتے ہوئے انتھک جدوجہد ‘ لگاتار ٹریننت اور جنون کی حد تک جذبہ کے ذریعہ انہوں نے خود کو ایک پیشہ ور کک باکسر کے طور پر منوایا اور اب دنیا بھر میں حیدرآباد اور ہندوستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ معاذ عثمان محمود اپنے شوق اور جنون کو پورا کرنے کیلئے لگاتار جدوجہد کرتے رہے اور بالآخر اپریل 2025 میں وہ پروفیشنل کک باکسر بن گئے ۔ اور عالمی سطح کے مقابلوں میں اپنی آمد کا اعلان کیا ۔ انہوں نے ستمبر 2025 میں اوشیانا خطاب بھی اپنے نام کرلیا ۔ اپریل 2026 میں معاذ عثمان محمود نے ایک اور شاندار جیت حاصل کرتے ہوئے اپنے کبھی نہ رکنے والے جذبہ کا سلسلہ جاری رکھا ۔ معاذ عثمان کیلئے ہر لڑائی صرف ایک میچ تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک جذبہ اور جنون کے ساتھ رنگ میں اترتے ہیںاور ہر مقابلہ کو وہ اپنے کارنامہ ‘ جدوجہد اور مقابلہ کے جذبہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ معاذ عثمان محمود یہ کبھی فراموش نہیںکرتے کہ ان کی جڑیں کہاں سے جڑی ہیں اور وہ کہاں سے آئے ہیں۔ حیدرآًاد کا نام عالمی سطح پر لے جانے والے اس جنگجو کیلئے یہ صرف ایک شروعات ہے ۔ وہ عالمی مقابلوں میں حیدرآباد کا نام روشن کر رہے ہیںا ور اس سفر میں بلندیوں کو چھونے کا عزم رکھتے ہیں۔