ترنمول کانگریس ایم پی کو بی جے پی کیخلاف احتجاج نہ کرنے کا مشورہ ، روح اللہ مہدی اور مہوا موئترا کے پوسٹ
حیدرآباد۔16۔جون(سیاست نیوز) لوک سبھا کے سرمائی اجلاس کے دوران مسلم رکن پارلیمنٹ کی جانب سے مسلم رکن پارلیمنٹ کو بی جے پی کے خلاف احتجاج سے دور رہنے کے مشورہ نے ملک بھر کی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے۔رکن پارلیمنٹ سری نگر جناب سید روح اللہ مہدی نے اپنے X کھاتہ پر پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ یوسف پٹھان کو مسلم رکن پارلیمنٹ کی جانب سے خوفزدہ کئے جانے کے واقعہ کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے مسلم سیاسی حلقوں میں بی جے پی کے خوف کی نشاندہی کرتے ہوئے ہلچل پیدا کردی ہے۔سید روح اللہ مہدی نے اپنی پوسٹ پر کسی رکن پارلیمنٹ کا نام نہیں لیا لیکن ترنمول رکن پارلیمنٹ مہوا موئیترا نے ان کی پوسٹ کے جواب میں رکن پارلیمنٹ حیدرآبادبیرسٹر اسدالدین اویسی کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیرسٹر اسداویسی تھے جنہوں نے یوسف پٹھان کو بی جے پی کے خلاف احتجاج میں حصہ نہ لینے کا مشورہ دیتے ہوئے انہیں خوفزدہ کیا۔ سری نگر رکن پارلیمنٹ جناب سید روح اللہ مہدی نے مہوا موئیترا اور ترنمول کانگریس سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے لکھا کہ یوسف پٹھان کو ترنمول کانگریس اور اس کے ارکان پارلیمان کی تائید حاصل ہونے کے باوجود وہ ’بزدل‘ ثابت ہوئے ۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے احتجاج بالخصوص SIR پر جاری احتجاج میں شامل یوسف پٹھان کو ایک مسلم رکن پارلیمنٹ کی جانب سے طلب کئے جانے اور انہیں ’بی جے پی سے دشمنی نہ کرنے کا مشورہ دیئے جانے ‘ کے واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ رکن پارلیمنٹ نے یوسف پٹھان سے کہا تھا کہ ’’خود کو دشمن کیوں بنا رہے ہو‘‘ وہ گجرات میں تمہارے مکان کو بلڈوزر کے ذریعہ منہدم کردیں گے۔ جناب سید روح اللہ مہدی کے اس انکشاف کے بعد مختلف گوشوں سے ’بی جے پی ‘ کا خوف پیدا کرنے والے رکن پارلیمنٹ کے نام کے انکشاف کے لئے دباؤ ڈالا جانے لگا لیکن چند گھنٹوں میں ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ مہوا موئیترا نے رکن پارلیمنٹ سری نگر کی پوسٹ پر بیرسٹر اسدالدین اویسی کے نام کا انکشاف کرتے ہوئے یوسف پٹھان کے متعلق لکھا کہ انہیں بھی افسوس ہے کہ وہ ’بزدل ‘ کے ساتھ کھڑی تھیں۔ دونوں اراکین پارلیمان کے X پر کئے گئے ان پوسٹس کے بعد سوشل میڈیا پر بیرسٹر اسدالدین اویسی پر ’بی جے پی کا خوف‘ پیدا کرنے کے الزام عائد کئے جانے لگے ہیں لیکن بعض گوشوں کی جانب سے ان کی اس کوشش کو احتیاط کا نام دیا جار ہاہے اور کہا جا رہاہے کہ وہ مسلم جہدکاروں‘ صحافیوں کے علاوہ مسلمانوں کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے متعلق متفکر رہتے ہیں، اسی لئے وہ بی جے پی کے خلاف کھل کر کام کرنے سے انہیں روکتے ہیں۔پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران پیش آئے اس واقعہ کے انکشاف پر مختلف گوشوں سے تبصرے کئے جانے لگے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ’بی جے پی کے خلاف سخت الفاظ ‘ کا استعمال کرنے والے بیرسٹر اسدالدین اویسی کی جانب سے دوسروں کو بی جے پی کے خلاف احتجاج نہ کرنے کا مشورہ ناقابل فہم ہے ۔ سوشل میڈیا پر جاری تبصروں کے دوران بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اس معاملہ میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے اور نہ ہی سید روح اللہ مہدی ‘ مہوا موئیترا یا یوسف پٹھان کی جانب سے کسی بھی طرح کا ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔3