متاثرین اور اموات کی تعداد زیادہ ۔ محکمہ صحت کے حکام کی چیف منسٹر کے سی آر سے خواہش
حیدرآباد 4 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ریاستی محکمہ صحت و طبابت کے عہدیداروں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو سے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین اور اس سے فوت ہونے والوں کی زیادہ تعداد کا تعلق حیدرآباد اور اس کے اطراف کے تین اضلاع سے ہے ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حیدرآباد ‘ رنگا ریڈی ‘ میڑچل اور وقار آباد اضلاع میںلاک ڈاون پر مزید سختی سے عمل آوری کی جائے ۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر سے خواہش کی کہ ان اضلاع میں کوئی نرمی یا رعایت نہ دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے اضلاع میں کورونا کے کیسیس کم ہوئے ہیں اور کنٹینمنٹ زونس کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے ۔ چیف منسٹر نے آج پرگتی بھون میںکورونا وائرس کے پھیلاو اور لاک ڈاون کی صورتحال کا جائزہ لینے ایک اعلی سطح کا اجلاس منعقد کیا ۔ وزیر صحت ایٹالہ راجندر ‘ چیف سکریٹری سومیش کمار ‘ ڈی جی پی ایم مہیندر ریڈی ‘ اسپیشل چیف سکریٹری مس شانتی کماری ‘ کمشنر خاندانی بہبود مس یوگیتا رانی اور دوسرے سینئر عہدیدار اجلاس میںشریک تھے ۔ تقریبا آٹھ گھنٹوں تک چلے اجلاس میں کورونا وائرس کے پھیلاو اور لاک ڈاون کے قوانین پر غور کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آج کورونا کے صرف تین کیسیس سامنے آئے ہیںاور 40 افراد کو ڈسچارچ کردیا گیا ہے ۔ اس پر محکمہ صحت کے عہدیداروں نے ایک رپورٹ چیف منسٹر کو پیش کی ۔ رپورٹ میں عہدیداروں نے بتایا کہ حیدرآباد ‘ رنگا ریڈی ‘ میڑچل اور وقار آباد اضلاع میں وائرس زیادہ پھیلا ہوا ہے ۔ ریاست میں جملہ 1085 کورونا متاثرین میں 717 متاثرین کا تعلق ان چار اضلاع سے ہی ہے ۔ اس کے علاوہ مہلوکین کی تعداد کا بھی 82 فیصد حصہ ان ہی چار اضلاع سے ہے ۔ گذشتہ دس دنوں کے دوران جو زیادہ تعداد میںکورونا کیسیس سامنے آئے ہیں ان کا بھی ان ہی اضلاع سے تعلق ہے ۔ ان اضلاع میں صرتحال اچھی نہیں ہے ۔ ایسے میں ان چار اضلاع میں کوئی بھی رعایت یا نرمی نہیں دی جانی چاہئے ۔ لاک ڈاون کو برقرار رکھنا چاہئے اور ضرورت پڑے تو اس میں مزید تیزی لائی جانی چاہئے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ دوسرے اضلاع میں صورتحال میں بہتری آئی ہے اور کنٹینمنٹ زونس کی تعداد بھی گھٹا دی گئی ہے ۔ ان اضلاع میں ریڈ زونس اب آرینج زون میںاور آرینج زونس اب گرین زونس میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ صرف چار اضلاع میںصورتحال میں بہتری نہیں آئی ہے ۔
