جی او 111 مسئلہ پر حکومت کے موقف اور عدالتی رسہ کشی کے درمیان رئیل اسٹیٹ تاجرین کو تشویش
حیدرآباد۔14 ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں جی او 111 کے مسئلہ پر حکومت کے موقف اور عدالتی رسہ کشی کے دوران جائیدادوں کی خرید و فروخت نے رئیل اسٹیٹ تاجرین بالخصوص ان تاجرین کو تشویش میں مبتلاء کیا ہوا ہے جو کہ تلنگانہ اسٹیٹ رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھاریٹی کے اجازت ناموں کے ساتھ تعمیراتی کام انجام دے رہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ نے جی او 111 کے معاملہ میں عدالت میں اپنے موقف کی وضاحت کے لئے جاریہ سال ستمبر کے دوران مزید وقت طلب کیا تھا اور اس کے بعد سے حکومت کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے جی او 111 کی برخواستگی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے حالیہ عرصہ میں جو اراضیات کا ہراج کیا گیا ہے وہ جی او 111 کے تحت ہیں اور ان اراضیات کے سرکاری سطح پر ہراج کے بعد یہ کہا جانے لگا ہے کہ جب حکومت کی جانب سے جی او 111کے حدود میں اراضیات کا ہراج کیا جا رہاہے تو اس با ت کا غالب امکان ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے عدالت میں جو موقف پیش کیا جائے گا وہ جی او 111 سے دستبرداری کے حق میں ہوگا ۔ رئیل اسٹیٹ تاجرین کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کے اس موقف کو بنیادبناتے ہوئے حمایت ساگر و عثمان ساگر کے دائرہ میں موجود اپنی جائیدادوں پر ترقیاتی منصوبوں کی تیاری کر رہے ہیں اور اپنے ترقیاتی منصوبہ پر عمل آوری سے قبل ہی کم قیمتوں پر فروخت کرنے لگے ہیں جو کہ تلنگانہ اسٹیٹ رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھاریٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث بلڈرس کے تاجرین کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جی او 111 کا معاملہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے اور اس کے علاوہ جی او 111 کی برقراری کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں و اداروں کی جانب سے نیشنل گرین ٹریبونل میں بھی درخواستیں داخل کی گئی ہیں ۔ جی او 111کی برخواستگی کی صورت میں شہر حیدرآبادسے متصل ایک اور شہر آباد ہونے کے قوی امکانات ہیں اسی لئے حکومت کی جانب سے جی او 111 کے دائرہ میں موجو دذخائر آب کو محفوظ کرتے ہوئے ممنوعہ علاقہ کے رقبہ کو کم کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور حکومت کے اس منصوبہ کو جی او 111 کے حدود میں موجود 84مواضعات کے عوام اور مالکین جائیداد کی تائید حاصل ہے جبکہ عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے علاوہ دیگر ذخائر آب کے تحفظ کی جدوجہد کرنے والوں کی جانب سے اس منصوبہ کی مخالفت کرتے ہوئے یہ دلیل پیش کی جا رہی ہے کہ اگر جی او 111کو منسوخ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں دونوں ذخائر آباد میں پانی جمع ہونے کے راستے مکمل طور پر مسدود ہوجائیں گے۔م