حیدرآباد مجالس مقامی ایم ایل سی انتخاب ‘ جملہ ووٹوں کی تعداد 110

   

مجلس کے پاس 49 ، بی آر ایس کے 25 ، بی جے پی کے 19 اور کانگریس کے 14 ووٹ ہیں
حیدرآباد ۔ یکم / اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد مقامی اداروں کے ایم ایل سی انتخابات کیلئے نوٹیفیکیشن کی اجرائی کے بعد تمام سیاسی جماعتیں اس پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں ۔ پرچہ نامزدگیاں داخل کرنے کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے ۔ /23 اپریل کو رائے دہی ہوگی اور /25 اپریل کو نتائج جاری ہوں گے ۔ نوٹیفیکیشن میں اس کی وضاحت کی گئی ۔ فی الحال اس حلقہ کی نمائندگی کرنے والے رکن قانون ساز کونسل ایم ایس پربھاکر کی میعاد جاریہ سال یکم مئی کو ختم ہورہی ہے ۔ جس کے تناظر میں سنٹرل الیکشن کمیشن نے نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے ۔ جس کے بعد انتخابی ضوابط اخلاق نافذ العمل ہوگیا ہے ۔ ابھی تک حیدرآباد لوکل باڈی ایم ایل سی انتخاب بلا مقابلہ رہا ہے ۔ اس مرتبہ بھی بلا مقابلہ ہونے کے قوی امکانات پائے جاتے ہیں ۔ اس انتخاب میں کونسی پارٹی کی کتنی عددی طاقت ہے جائزہ لیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ حیدرآباد مقامی اداروں کے ایم ایل سی انتخاب کیلئے جملہ 110 ووٹس ہیں ۔ ان میں 81 کارپوریٹرس اور 29 معاون اراکین ہیں ۔ فی الوقت تین ڈیویژنس کے کارپور یٹرس نہیں ہے ۔ جملہ ووٹوں میں مجلس پارٹی کے 49 ووٹ ہیں ۔ جس میں ایک ایم پی ، 7 ارکان اسمبلی ایک ایم ایل سی کے ساتھ 40 کارپور یٹرس ہیں ۔ بی آر ایس کے 25 ووٹ ہیں ۔ جس میں 3 ارکان راجیہ سبھا ، دو ارکان قانون ساز کونسل ، 5 ارکان اسمبلی ، 15 کارپور یٹرس شامل ہیں ۔ بی جے پی کے ووٹوں کی تعداد 19 ہیں ۔ ان میں ایک ایم پی ، ایک ایم ایل سی ، 19 کارپوریٹرس ہیں ۔ حکمران کانگریس پارٹی کے 14 ووٹس ہیں ۔ جس میں ایک رکن راجیہ سبھا ، 4 ارکان قانون ساز کونسل ، 2 ارکان اسمبلی ، 7 کارپور یٹرس شامل ہیں ۔ فی الحال مجلس کے پاس سب سے زیادہ 49 ووٹ ہیں ۔ اگر کانگریس پارٹی تائید کرتی ہے تو مجلس کی کامیابی یقینی ہے ۔ 2