حیدرآباد، 13اکتوبر (یواین آئی) ہندوستان نے پانچ میچوں کی ٹی20سیریز میں 2-1کی برتری حاصل کر رکھی ہے ، لیکن ویسٹ انڈیز نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے واضح کردیا ہے کہ میزبان ٹیم کسی بھی مرحلے پر آرام سے نہیں بیٹھ سکتی۔ کل حیدرآباد میں ہونے والا چوتھا ٹی20ہندوستان کے لیے سیریز اپنے نام کرنے کا موقع ہوگا، جبکہ ویسٹ انڈیز کی نظریں مقابلہ فیصلہ کن میچ تک لے جانے پر ہوں گی۔ ہندوستان نے اندور میں تیسرا ٹی20میچ 14رنز سے جیت کر سیریز میں برتری حاصل کی تھی۔ تاہم ویسٹ انڈیز نے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے جس طرح مزاحمت کی، اس سے ہندوستان کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ پاور ہٹرز سے بھرپور اس ٹیم کے خلاف کوئی بھی اسکور مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے ۔ہندوستان کی بیٹنگ نے اب تک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اندور میں ابھیشیک شرما نے صرف30گیندوں پر 69رنز بناکر میچ کا رخ ابتدائی مرحلے میں ہی ہندوستان کے حق میں موڑ دیا تھا، جبکہ ایشان کشن نے 18گیندوں پر 37رنز کی تیز اننگز کھیل کر ٹیم کی رفتار مزید بڑھائی۔ تاہم ہندوستانی ٹیم 223 رن پر آل آؤٹ ہوگئی اور ایسا محسوس ہوا کہ اگر اختتامی اوورز میں مزید رنز بنتے تو ہدف اور بھی بڑا ہوسکتا تھا۔اس کے باوجود ویسٹ انڈیز کے بیٹرس نے ہمت نہیں ہاری اور رنوں کی رفتار بڑھنے کے باوجود مسلسل ہدف کے تعاقب میں جٹے رہے ۔ مہمان ٹیم 20اوورز میں سات وکٹ پر 209رن تک پہنچ گئی۔ وہ ہدف سے دور رہی، لیکن اس نے ہندوستان کو کامیابی کے لیے سخت محنت کرنے پر مجبور کردیا۔ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ کے لیے اصل سوال یہ نہیں ہے کہبیٹرس دوبارہ بڑا اسکور بناسکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ بولراس اسکور کو محفوظ بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ اندور میں ارشدیپ سنگھ نے تین اور نمن دھیر نے دو وکٹیں لے کر اہم مواقع پر ہندوستان کو برتری دلائی، لیکن ویسٹ انڈیز نے اس کے باوجود مقابلے کو زندہ رکھا۔پاور ہٹرز کے خلاف صرف اسکور بورڈ کا دباؤ کافی نہیں ہوگا۔ چند پُرسکون اوور بھی دو وکٹوں جتنا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، جبکہ غلط لینتھ یا بیٹر کی ہٹنگ رینج میں آنے والی ایک گیند پہلے کی گئی محنت پر پانی پھیر سکتی ہے ۔ حیدرآباد میں ہندوستان کو اسٹمپ پر حملہ کرنے ، رفتار میں تبدیلی اور ویسٹ انڈیز کے بیٹرس کو کھل کر ہاتھ کھولنے کا موقع نہ دینے کے درمیان بہتر توازن قائم کرنا ہوگا۔ویسٹ انڈیز کو رانچی میں حاصل کی گئی کامیابی سے بھی حوصلہ ملے گا، جہاں اس نے 250رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے چھ وکٹ سے فتح حاصل کی تھی۔ اس مقابلے میں مہمان ٹیم کے مڈل آرڈر نے شاندار کارکردگی دکھائی تھی اور مطلوبہ رن ریٹ بھی اسے دباؤ میں نہیں لا سکا تھا۔ ہندوستان کے لیے سبق واضح ہے کہ ایک بڑا ہدف بھی ایسی ٹیم کے خلاف ضمانت نہیں بن سکتا جو مسلسل جارحانہ کھیلنے کے لیے تیار ہو۔