حیدرآباد میں ترقیاتی سرگرمیاں ٹھپ : کے ٹی آر

   

مکانات کی خریدی میں کمی رئیل اسٹیٹ کاروبار متاثر ، بلڈوزر کارروائی نقصان دہ
حیدرآباد ۔ 28 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس کے 15 ماہی دور حکومت میں شہر حیدرآباد ترقی کے بجائے پسماندگی کی طرف گامزن ہوجانے کا دعویٰ کیا ۔ سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں اس وقت کے چیف منسٹر کے سی آر نے ملک کے شہروں کی ترقی میں شہر حیدرآباد کو رول ماڈل کے طور پر پیش کیا ۔ بڑھتی آبادی کے تناسب سے حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو فروغ دیا ۔ شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فلائی اوورس ، انڈر پاسیس لنک روڈس ، مفت پینے کے پانی کی سربراہی 24 گھنٹے معیاری برقی سربراہی کی گئی سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا ۔ ریونت ریڈی کے دور حکومت میں شہر کے زیر التواء کاموں میں تیزی پیدا کرنے کے بجائے انہیں نظر انداز کردیا گیا جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ حیڈرا کی سرگرمیاں ، موسیٰ ندی کی انہدامی کارروائیاں سے عوام اور رئیل اسٹیٹ کے کاروباری پریشان ہوگئے ۔ ان انہدامی کارروائیوں سے مکانات کی فرووخت کا کاروبار ٹھپ ہوگیا ۔ کسان ہی نہیں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والے بھی خود کشی کے لیے مجبور ہورہے ہیں ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ انہدام نہیں تعمیر کرنا اہم ہے ۔ جھوٹ بولنا نہیں ترقیاتی اقدامات کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کے مکانات پر بلڈوزر چلایا جارہا ہے ۔ کانگریس کے قائدین شہر اور اس کے مضافاتی مقامات کی اراضیات پر گد کی طرح منڈ لا رہے ہیں ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران مکانات کی فروخت میں 49 فیصد کی کمی آئی ہے ۔ 2
آفیس لیز کی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی ۔ جنوری تا مارچ کے دوران 41 فیصد کی کمی آئی ۔۔ 2