حیدرآباد میں روزانہ 170 ملین گیلین پانی ضائع ہورہا ہے

   

Ferty9 Clinic


حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کو بھاری نقصان، نئے میٹر کنکشن اور پائپ لائین درستگی کیلئے حکومت سے امداد طلب
حیدرآباد: حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے لئے اقدامات کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میں روزانہ 170 ملین گیلین پانی ضائع ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں واٹر بورڈ آمدنی سے محروم ہیں۔ پانی کی چوری ، لائین میں لکیجس اور دیگر وجوہات کے سبب میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ 170 ملین گیلین پانی کے چارجس سے محروم ہیں۔ بورڈ کی جانب سے روزانہ 448 ملین گیلین پانی سربراہ کیا جاتا ہے اور صارفین کی تعداد 9.2 لاکھ ہے۔ کرشنا اور گوداوری سے پانی حاصل کرتے ہوئے صفائی پر 46 روپئے فی کیلو لیٹر کا خرچ آتا ہے ۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران نقصانات کم کرنے کیلئے واٹر بورڈ کے عہدیداروںکی جانب سے ایکشن پلان تیار کیا گیا لیکن پانی کے نقصانات کو کم کرنے میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ بتایا جاتا ہے کہ راجندر نگر ، شیر لنگم پلی اور کوکٹ پلی علاقوں میں بسنے والے ایک لاکھ سے زائد صارفین پانی کی سربراہی سے محروم ہیں۔ سنگور اور مانجرا سے پانچ ملین گیلین روزانہ پانی کی سربراہی کے باوجود ان علاقوں میں عوام کو قلت کا سامنا ہے۔ بورڈ کا دعویٰ ہے کہ وہ کرشنا اور گوداوری سے ان علاقوں کو پانی سربراہ کرنے کے اقدامات کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ عثمان ساگر اور حمایت ساگر سے سربراہی آب کے وسائل میں کمی آئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مانجرا اور سنگور ذخائر آب سے سربراہی والے علاقوں کو قلت کا سامنا ہے۔ منی کنڈہ ، پٹن چیرو اور پپلگوڑہ علاقوں میں پانی کی سربراہی میں کمی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے خسارہ کو 40 فیصد ہی کم کیا گیا تو شہر میں 9.2 لاکھ صارفین کو 24 گھنٹے بلا وقفہ پانی سربراہ کیا جاسکتا ہے ۔ 1400 سلم اور آؤٹر رنگ روڈ کے 190 مواضعات میں پانی کی سربراہی ممکن ہوگی۔ عہدیداروں نے لکیج اور پانی کی چوری کو روکنے کیلئے حکمت عملی تیار کی ہے ۔ اس کے علاوہ صارفین کی جانب سے بلز کی عدم ادائیگی بورڈ کے نقصانات کی اہم وجہ ہے۔ واٹر بورڈ کو لکیجس پر قابو پانے کیلئے 600 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ بورڈ نے نئے اور عصری واٹر میٹرس نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پانی کے استعمال کے مطابق بل وصول کیا جاسکے۔ پائپ لائین کی تبدیلی کیلئے واٹر بورڈ کو 300 کروڑ کی ضرورت ہے ۔ کسی بھی مالیاتی ادارے کی جانب سے واٹر بورڈ کو رقم کی فراہمی سے اتفاق نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں واٹر بورڈ حکومت سے توقعات وابستہ کرچکا ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہر میں محض 25 فیصد تک لکیجس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔