حیدرآباد۔7 اگسٹ (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں حالیہ دنوں میں فوڈ پائزینگ کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں پائرینگ کے واقعات میں جہاں غیرمعیاری غذائی اشیاء فراہم کیا جاناکلیدی کردار ادا کرتا ہے تو دوسری جانب غذائی اشیاء کا معیار جانچنے کیلئے حیدرآباد کے جی ایچ ایم سی حدود میں مطلوبہ عملہ بالکل نہیں ہے۔ جی ایچ ایم سی میں 30 سرکل ہیں اور ہر سرکل کیلئے فی کس ایک فوڈ انسپکٹر ہونا لازمی ہے۔ حیدرآباد کے جی ایچ ایم سی حدود میں غذا کے معیار کو جانچنے کے لیے اس وقت صرف دو عہدیدار ہی موجود ہیں کے 30 سرکل میں فی سرکل کے حساب سے 30 فوڈ انسپکٹرس موجود رہنا چاہئے اور ہر سرکل انسپکٹر گزیٹیڈ فوڈ انسپکٹر اور اسسٹنٹ فوڈ انسپکٹر کی نگرانی میں اپنے سرکل یاحدود میں غذائی اشیاء کے معیار کی مسلسل نگہداشت کرے اور اس کے حدود کے ریسٹورنٹ ، بار، ہوٹلزز، دواخانے، ریزیڈنشیل اسکول کے ہاسٹلز میں فراہم کیے جانے والے کھانوں کے معیار کی جانچ کی جائے لیکن جی ایچ ایم سی کے حدود میں اس وقت صرف ایک گزیٹیڈ فوڈ انسپکٹر اورایک اسسٹنٹ فوڈ انسپکٹرموجود ہے اور یہی دو سینیرعہدیدار سارے شہر حیدرآباد کے معاملات کی یکسوئی کر رہے ہیں۔ اس خصوص میں گزیٹڈ فوڈ انسپکٹر سدرشن نے کہا ہیکہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں سرکل کے اعتبار سے 30 فوڈ انسپکٹرز ہونے چاہیے لیکن کسی بھی سرکل میں کوئی انسپکٹر موجود نہیں ہے اور شہر حیدرآباد کے ہر چھوٹے بڑے معاملات کی شکایت کی یکسوئی کیلئے ہم دو عہدیداروںکو ہی کام کرنا پڑ رہا ہے ۔ فوڈانسپکٹرز کی مخلوعہ جائیدادوں پرنئے انسپکٹرز کے تقررات کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ایک جانب فوڈ انسپکٹر کی جائیدادوں پر کوئی تقررات نہیں ہورہے ہیں اور دوسری جانب معیاری کھانے کی تحقیق کیلئے صرف دو سینئر عہدیداروں کی خدمات ناکافی ہو رہی ہیں شہر حیدرآباد میں غیرمعیاری کھانوں کی روزانہ شکایتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق عہدیداروں کو حالیہ دنوں میں مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ،کیونکہ سوئیگی ، زماٹو اور اس طرح کے دیگر ایپس کے ذریعے کھانوں کے جو آرڈرز کئے جا رہے ہیں اس میں بھی غذائی اشیاء کے غیر معیاری ہونے کی شکایت کا ایک سلسلہ چل رہا ہے۔ مانسون کی وجہ سے جہاں شہر حیدرآباد میں پہلے ہی امراض پھیل رہے ہیں وہیں ایپس کے ذریعے آن لائن کھانوں کے جوآرڈرزکیے جارہے ہیں اس میں حکام کو روزانہ 5 تا 6 شکایتیں غیرمعیاری کھانے کے متعلق موصول ہو رہی ہیں۔
