نئے سکریٹریٹ پلان کے مشورہ میں مقامی جماعت کی رضا مندی ، محمد مشتاق ملک کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔ تحریک مسلم شبان کے صدر محمد مشتاق ملک نے شہر حیدرآباد میںمساجد کی شہادت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ وقف بورڈ کے گیارہ میںسے سات اراکین مقامی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں باوجود اسکے سکریٹریٹ کی مسجد ہاشمی اور مسجد معتمدی کو بلا خوف وخطر شہید کردیاگیا ‘ نہ تو حکومت کی جانب سے اس پر کوئی اظہار ندامت سامنے آیا اور نہ ہی نام نہاد قیادت نے سکریٹریٹ کے احاطے کی مساجد کو سرکاری نگرانی میںشہید کرنے پر کوئی مذمت کی ہے۔سکریٹریٹ کی مساجد سے توجہہ ہٹانے کیلئے چیرمن تلنگانہ وقف بورڈ کو نشانہ بنایاجارہا ہے کہ جبکہ بورڈ کی اکثریت مقامی جماعت سے راست یا بالراست تعلق رکھنے والوں پر مشتمل ہے۔صدر شبان نے کہاکہ مسجد کے مسلئے پر بچ کر نکلنے کی کوششیں کی جارہی ہے اور اس کی راست ذمہ داری مقامی جماعت کے سر پر ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی طاقت آپ کے پاس ہے اور حکومت کے ساتھ اتحاد آپ نے کیاہے باوجود اسکے تلنگانہ میں چار مساجد اور دو عاشور خانوں کی شہادت مسلمانوں کے لئے لمحہ فکر ہے۔انہوں نے کہاکہ نئی دفتر معتمدی ( سکریٹریٹ) کے پلان کے ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی گئی تھی ۔ حکومتی ذرائع کا دعوی ہے کہ نئے سکریٹریٹ کے مجوزہ پلان سے تمام سیاسی جماعتیں واقف ہیںاور مشتاق ملک نے مبینہ طور پر کہاکہ مقامی جماعت کے منتخب اراکین اسمبلی جو اس اجلاس میںموجود تھے انہوں نے ایک مسجد پر رضا مندی کا بھی اظہار کیاہے جو قابل افسوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی مضبوط سیاسی طاقت نہیںہے اور اگر ہوتی تو یقینا سکریٹریٹ کے مساجد کے علاوہ عاشور خانے اور عنبر پیٹ کی مسجد کو بے دردی کے ساتھ شہید کرنے کی حکومت ہرگز ہمت نہیںکرتی ۔انہوں نے کہاکہ وقف بورڈ کے چیرمن الحاج محمد سلیم کو ایک سیاسی سازش کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ مسلمانوں کے سامنے یہ بات پیش کی جاسکے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سکریٹریٹ کی مساجد کی شہادت میںجتنا حکومت ذمہ دار ہے اتنا ہی مقامی جماعت بھی ذمہ دار ہے اور تلنگانہ کا مسلمان اس پر خاموش نہیں بیٹھے گا ۔ سپریم کورٹ کے وکلاء کی خدمات حاصل کئے جائیںاور مسجد کی بازیابی کیلئے جو ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے وہ اپنے مقصد میںکامیابی تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی ۔
