حیدرآباد میں نئے پروجیکٹس،شہر کے تمام شعبوں میں ترقی ہوگی

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد،16 جون(یواین آئی) ہندوستان کا موتیوں کا شہر ،حیدرآباد اپنی خوب صورتی اورثقافتی ورثہ کا حامل ہے جوتمام شعبوں میں بڑے پیمانہ پر ترقی کا گواہ بنتا جارہا ہے ۔اس کی تیز تر ترقی ہوتی جارہی ہے ۔اس میں کئی بڑے پروجیکٹس شروع کئے جارہے ہیں۔ان پروجیکٹس پر مستقبل کے حیدرآباد کاانحصار ہے ۔ حیدرآباد میں ایشیا کا سب سے بڑا آئی ٹی کا واحد گوگل کیمپس قائم کیاجانے والا ہے ۔یہ امریکہ کے بعد سب سے بڑا گوگل کا مرکز ہوگا۔فرانس کی ہیلی کاپٹر تیار کرنے والی کمپنی ایربس نے حیدرآباد میں 2500 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری سے اس کے پلانٹ کے قیام کے لئے حکومت تلنگانہ کو رسمی طورپر تجویز پیش کی تاکہ ہیلی کاپٹرس تیار کئے جاسکیں۔اس کمپنی نے شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ کے قریب 16ہیکٹرس اراضی اس خصوص میں دینے کی حکومت تلنگانہ سے خواہش کی ہے ۔ابوظہبی کا لولو گروپ حیدرآباد میں فروٹ اینڈ ویجیٹیبل پروسیسنگ یونٹ اور انٹی گریٹیڈ میٹ پروسیسنگ یونٹ اور شاپنگ مال کے قیام کے لئے 2500کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہے ۔یہ مال 2019کے اواخر یا پھر2020کے اوائل میں تیار ہوجائے گا۔چین کی اسمارٹ فون تیار کرنے والی کمپنی ون پلس نے اعلان کیا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا ون پلس اسٹور حیدرآباد میں قائم کیاجائے گا۔ یہ اعلان اس کے عصری ون پلس سیون پرو کو بنگالورو میں متعارف کے موقع پر کیاگیا۔کمپنی کے سی ای او موجودہ آر اینڈ بی سنٹر حیدرآباد کو بڑے مرکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے فارما سٹی کلسٹر پروجیکٹس میں سے ایک پروجیکٹ کو تلنگانہ کے ضلع رنگاریڈی میں 19000ایکڑ اراضی پر قائم کیاجائے گا۔8000ایکڑ اراضی اس مقصد کے لئے الاٹ کی گئی ہے ۔ شہر لاجسٹکس ہب کے ابھر رہا ہے کیونکہ حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی(حمڈا)کی جانب سے شہر میں 12لاجسٹکس پارکس کے قیام کامنصوبہ ہے ۔ان تمام پروجیکٹس پرعمل سے مستقبل میں حیدرآباد شہر کی خوب صورتی متاثر نہیں ہوگی۔موجودہ طورپر کئی پروجیکٹس پرعمل کیاجارہا ہے ۔ان میں روایتی فارمازون،ٹکنالوجی زون،لائف سائنسس زون اور نالج زون بھی شامل ہیں۔امریکہ کی ای کامرس کی سرکردہ کمپنی امیزون کا امریکہ کے بعد سب سے بڑامرکز حیدرآباد میں قائم کیاجائے گا۔یہ مرکز جاریہ سال حیدرآباد میں قائم کیاجائے گا جس سے ایک ہی مقام پر کئی افراد کو ملازمتیں فراہم کی جاسکیں گی۔اس مرکز میں تقریبا 30ہزار افراد کو ملازمتوں کی فراہمی کی توقع کی جارہی ہے ۔کئی سافٹ ویر کمپنیاں، سافٹ ویر کنسلٹنگ فرمس،بزنس پروسس آوٹ سورسنگ فرمس اور دیگر ٹکنالوجیکل سرویس فرمس نے اپنے دفاتر اور مراکز پہلے ہی اس شہر میں قائم کئے ہیں۔یہ سلسلہ 1990سے جاری ہے ۔ ٹکنالوجیکل انفراسٹرکچر سے متعلق ٹاون شپ ہائی ٹیک سٹی کی ترقی بیشتر آئی ٹی کمپنیوں کے ذریعہ ہوپائی ہے ۔ان میں بعض اس طرح ہیں۔سرکردہ کمپنی ایپل نے آف شو ٹکنالوجی مرکز کا سب سے پہلے شہر میں قیام عمل میں لایا۔19مئی 2016کو اس مرکز کا قیام عمل میں لایاگیا۔25ملین ڈالرس کی سرمایہ کاری سے اس مرکز کا قیام عمل میں لایاگیا۔سویڈن کی فرنیچر کی تیاری کا کام کرنے والی سرکردہ کمپنی ایکیا نے ایک ہزار کروڑ روپئے کے سرمایہ سے اپنا پہلا اسٹور حیدرآباد میں قائم کیا۔یہ اسٹور چارلاکھ مربع گز علاقہ پر محیط ہے ۔اس میں تمام طرح کی سہولیات، رسٹورنٹ اور پلے ایریا بھی ہے ۔ٹی ہب کا شمار ہندوستان کے بڑے انکیوبیٹرس میں ہوتا ہے ، اس کے پہلا مرحلہ کا افتتاح 5نومبر2015کو ہوا۔ٹی ہب انکیوبیٹرس، ایکسلریٹر،مارکٹ ایکسس پروگرامس کے ذریعہ لوکل اور انٹرنیشنل اسٹارٹ اپس کے لئے مواقع فراہم کرتا ہے ۔ ان پروجیکٹس پرعمل سے حیدرآباد کا شمار ملک کے دس میٹرو پولیٹن شہروں میں ہوگیا ہے ۔