حیدرآباد میں ٹریفک کے سنگین مسئلہ کا حل ، سالم بن محمد طہٰ کا ماڈل

   

79 سالہ کمرشیل آرٹسٹ شہر کی ٹریفک کو لے کر فکر مند ، چوراہوں پر ٹریفک جام پر تشویش
حیدرآباد ۔ 15 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو قائم کرتے ہوئے 1591 میں محمد قلی قطب شاہ نے بارگاہ رب العزت میں دعا مانگی تھی کہ میرے شہر کو لوگاں سے معمور رکھ یعنی میرے شہر کی آبادی بہت زیادہ ہو اور اس کے دامن میں لوگ ہنسی خوشی زندگی گزارے ۔ اس نیک دل بادشاہ کی دعا اللہ نے قبول کی اور آج حیدرآباد اس قدر وسعت اختیار کر گیا کہ اس کی آبادی 2011 کی مردم شماری کے مطابق 68.1 لاکھ تھی اور ایک اندازہ کے مطابق جی اے ایچ ایم سی کی آبادی 1.42 کروڑ تک پہنچ گئی ہے ۔ جب آبادی میں اضافہ ہوتا ہے تو ذرائع حمل و نقل میں بھی اضافہ ہوگا چنانچہ آپ کو بتادیں کہ حیدرآباد میں دو پہیوں کی گاڑیوں یعنی موٹر سائیکلوں اور کاروں کی جملہ تعداد 88,97,109 ہے ( یہ اعداد و شمار 4 فروری 2026 تک کے ہیں ) ان میں دو پہیوں کی گاڑیوں کی تعداد 6551563 اور کاروں کی تعداد 1637531 ہے چونکہ شہر میں بیرونی ریاستوں سے خاص کر شمالی ہند سے بڑے پیمانہ پر لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔ ٹریفک میں خلل عام بات ہوگئی ہے ۔ ہمارے شہر میں ٹریفک اور آلودگی کے مسئلہ کو لے کر کئی فکر مند شہریوں نے حکومت کو توجہ بھی دلائی ۔ ایسی ہی فکر مند شخصیتوں میں سنتوش نگر کے رہنے والے کمرشیل آرٹسٹ سالم بن محمد طہٰ بھی شامل ہیں جو سرکاری اداروں کو مسلسل اس جانب توجہ دلا رہے ہیں ۔ انہوں نے حال ہی میں نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملاقات کی اور ان کے سامنے اپنا تیار کردہ عبوری پل اور سڑکوں (گراونڈ + ون ) کے ماڈل پیش کیا ۔ جناب سالم بن محمد طہٰ کا دعویٰ ہے کہ اگر شہر کے مصروف ترین چوراہوں پر ان کے ماڈل کے مطابق عبوری پل اور سڑکیں تعمیر کی جائیں تو شہر میں ٹریفک میں خلل یا ٹریفک جام ہونے کا خطرہ ہی باقی نہیں رہے گا ۔ سالم بن محمد طہٰ نے مزید بتایا کہ اس سے قبل حکومت کرناٹک کو بھی انہوں نے اپنا ماڈل اور تجاویز پیش کی تھیں جواب میں اس ماڈل کی تعریف و ستائش تو کی گئی لیکن اس پر عمل آوری کے لیے اقدامات کرنے سے گریز کیا گیا ۔ ہاں سالم بن محمد طہٰ سے کہا گیا کہ آپ خود ایسے اسپانسر تلاش کریں جو اس ماڈل کو بھی شکل دیں ۔ جناب سالم بن محمد طہٰ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے درخواست کی کہ وہ ان کے ٹریفک ماڈل کو اپنائیں تاکہ ٹریفک خلل کا مسئلہ ختم ہوجائے ۔۔ k/b