شہریوں کا جینا دوبھر ، کیرالا میں ZIKA وائرس سے تشویش ، مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ پر توجہ دی جائے
حیدرآباد۔9جولائی(سیاست نیوز) دونوں شہروں میں مچھروں کی کثرت نے شہریوں کو بے انتہاء پریشان کیا ہوا ہے اور حیدرآباد میں کچہرے کے انبار اور ان کے قریب جمع ہونے والے پانی پر مچھروں کی افزائش ہورہی ہے اس کے باوجود نہ مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور نہ ہی کچہرے کی نکاسی کو یومیہ اساس پر بہتر بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ ڈاکٹرس کی جانب سے اب اس بات کی توثیق کی جا نے لگی ہے کہ ریاست بھر میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور اس کی بنیادی وجہ جگہ جگہ پانی کا جمع ہونا اور مانسون کے دوران پانی کی نکاسی کے مناسب اقدامات نہ کئے جانا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد میں ہورہے اضافہ کے دوران کیرالہ میں ZIKA وائرس کے 14 مریضوں کی توثیق نے حکومت کیرالہ کو تشویش میںمبتلاء کردیا ہے۔ شہر حیدرآبادو سکندرآباد میں بچوں میں موسمی تبدیلی کے سبب ریکارڈ کئے جارہے بخار‘ کھانسی‘ نزلہ اور دیگر وبائی امراض کو نظر انداز کرنے کے بجائے فوری انہیں کسی ماہر اطفال سے رجوع کرنا ضروری ہے جبکہ اگر کسی میں یہ علامات پائی جانے لگتی ہیں تو ایسی صورت میں وہ ڈاکٹرس سے رجوع کرتے ہوئے اپنا علاج کروائیں کیونکہ عام طور پر موسمی بیماریوں کیلئے اوور دی کاؤنٹر ملنے والی ادویات سے کام چلایا جاتا تاہم اب صورتحال ایسی نہیں ہے کہ بغیر ڈاکٹرس کے مشورہ کے ادویات کا استعمال کیا جائے۔ڈینگو کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ اگر مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ کو یقینی بنانے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ڈینگو کے مریضوںکی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اسی طرح Zikaوائرس میں ایسا وبائی مرض ہے جو مچھروں کے ذریعہ ایک مریض سے دوسرے مریض تک پہنچتا ہے اسی لئے Zika وائرس کو روکنے کیلئے بھی ضروری ہے کہ مچھروں کی افزائش پر قابو پانے کے اقدامات کئے جائیں اور مچھروں کی افزائش کے مقامات کی صفائی اور مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ کو یقینی بنایا جائے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ کے دعوے کئے جا رہے ہیں اس کے باوجود مچھروں سے شہر کے بیشتر تمام علاقوں کے شہری پریشان ہونے لگے ہیں۔