حیدرآباد :۔ دنیا میں ورلڈ ویٹ لینڈس ڈے 2 فروری کو منایا گیا تاہم اس میں حیدرآباد کے لیے بہت خوشی کی کوئی بات نہیں ہے کیوں کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ( جی ایچ ایم سی ) کے حدود میں 185 کے منجملہ صرف 10 جھیلیں یا تالاب ہی ہیں جو واٹر کوالٹی مانیٹرنگ کے لیے تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ ( ٹی ایس پی سی بی ) کی فہرست میں شامل ہیں ۔ بائیوکیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ (BOD) کی سطح مقررہ معیار کے مطابق ہے ۔ جھیلوں اور تالابوں میں بی او ڈی 3 ملی گرام فی لیٹر (3mg/L) یا اس سے کم ہونا چاہئے تاہم شہر کی زیادہ تر جھیلوں میں یہ 10 ملی گرام فی لیٹر ہے ۔ اور یہ سطح بہت زیادہ کنچن باغ میں ڈی ایم آر ایل جھیل میں 50 ملی گرام فی لیٹر ، شیخ پیٹ جھیل میں 24 ملی گرام فی لیٹر اور ترملگیری جھیل میں 34 ملی گرام فی لیٹر ہے ۔ حسین ساگر میں BOD کی سطح 14 تا 40 ملی گرام فی لیٹر کے درمیان ہے جس کا انحصار جہاں سے پانی کے نمونے حاصل کئے جانے ہیں اس پر ہوتا ہے ۔ شہر میں تقریبا 23 جھیلس ڈیزالوڈ آکسیجن (DO) کی تقریبا صفر سطح کے باعث ایسی ہیں جیسے ’ ڈیڈ ‘ نیشنل اوشئینک اینڈ ایٹما سفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے مطابق 2mg/L سے کم ڈی او کانسینٹریشن والے ذخائر آب کو ’ ڈیڈ زونس ‘ سمجھا جاتا ہے کیوں کہ وہ پائیدار نہیں ہوسکتی ہیں ۔ بعض جھیلوں میں ، پانی سیوریج سے زیادہ کچھ نہیں ہے کیوں کہ ان میں Do کی سطح 0.5mg/L سے کم ہے ۔ ان میں کوتہ چیرو ، شیخ پیٹ میں شاہ حاتم تالاب ترملگیری جھیل ، ڈی ایم آر ایل جھیل کنچن باغ ، موتکولہ کنٹہ ، پارکی چیرو کوکٹ پلی ، حشمت پیٹ جھیل ، الوال میں کتہ چیرو ، ماچابولارم میں میواری کنٹہ ، سرارم میں لنگم چیرو ، جیڈی میٹلہ میں فاکس ساگر ، سیری لنگم پلی میں میڈی کنٹہ اور پدا چیرو ، مدینہ گوڑہ میں پٹیل چیرو اور کاٹے دھن میں نور محمد کنڈ شامل ہیں ۔ حیدرآباد کے ماہر ماحولیات بی وی سبا راؤ نے کہا کہ ’’کوئی اقدامات شروع کرنے سے قبل ریاستی حکومت کو پہلے تمام جھیلوں اور تالابوں کے حدود کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی حد بندی کرنی چاہئے اور ان کی فینسنگ کرنی چاہئے تاکہ غیر قانونی قبضوں کا تدارک کیا جاسکے ۔ زیادہ جھیلیں اور تالاب ان پر غیر قانونی قبضوں کے لیے کھلے ہیں کیوں کہ ان پر سرکاری طور پر کی گئی حد بندی نہیں ہے ۔۔