حیدرآباد ۔ یکم ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : حیدرآباد کے ایک 29 سالہ اینویٹر سائی تیجا پیدی نینی نے ایک غیر معمولی ملاجلا میٹرئیل ( مرکب ) بنایا ہے جسے ’ ٹارڈیگریڈ ‘ کا نام دیا گیا جس میں -200 ڈگری سلسیس سے 1000 ڈگری سلسیس تک کے ایک شدید نوعیت کے اور منفی درجہ حرارت رینج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے ۔ اس اہم میٹریل کے مختلف شعبوں بالخصوص دفاع ، انڈسٹری اور شہریوں کی سیفٹی کے لیے استعمال کئے جانے کے کافی امکانات ہیں۔ ویرا ایڈوانسڈ ریسرچ کے سی ای او سائی تیجا نے اس منفرد نوعیت کے کمپوزٹ میٹریل کی تیاری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ دو سال کے ریسرچ اور تجربات کے بعد انہوں نے اس پراڈکٹ کو تیار کیا ہے ۔ اس ریسرچ کا مقصد ایک ایسا میٹریل تیار کرنا تھا جو بہت زیادہ درجہ حرارت کو برداشت کرسکے اور متعدد ٹرئیلس اور غلطیوں کے بعد اب ہم ایک ایسا مادہ تیار کئے ہیں جو 200 -تا 1000 ڈگری سلسیس کے رینج میں درجہ حرارت کا مقابلہ کرسکتا ہے ۔ اس منفرد نوعیت کے ’ ٹارڈیگریڈ ‘ کمپوزٹ کے استعمالات مختلف ہیں اور دفاع کے شعبہ کے لیے یہ بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ اسے نامساعد موسی حالات کے لیے موزوں نہایت تکنیکی کپڑوں کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ نیز اس میٹریل میں پوشیدہ خصوصیات کی غیر متوقع دریافت سے ڈیفنس اپلی کیشنس کے لیے امکانات وا ہوتے ہیں ۔ سائی تیجا نے مزید بتایا کہ صنعتی شعبہ میں جہاں انتہائی زیادہ درجہ حرارت کی جگہ بھٹیاں چلائی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں اس کمپوزٹ سے بنائے جانے والے کپڑوں کا استعمال تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ سیوئلین محاذ پر اس میٹریل کو بہت زیادہ درجہ حرارت کے ساتھ کام کرنے والی صنعتوں میں ایک سیفٹی اقدام کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ میٹریل منفی درجہ حرارت میں بھی مفید ثابت ہوتا ہے اور سرد موسم زون میں کام کرنے والے افراد اور ایڈوینچر ٹورسٹس کی ضرورت کو پورا کرتا ہے ۔ اس پراڈکٹ کی منفرد خصوصیات کے بارے میں بتاتے ہوئے سائی تیجا نے کہا کہ اس میٹریل سے بنائے جانے والے کپڑے انہیں پہننے والوں کو شدید درجہ حرارت کا سامنا کرنے کے قابل بناتے ہیں ۔ سوٹ کے اندر درجہ حرارت تقریبا نارمل رہتا ہے اور نامساعد موسمی حالات میں بھی راحت فراہم کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر سیاچن گلیشیئر جیسے مقامات پر جہاں درجہ حرارت -50 یا -60 ڈگری سلسیس تک پہنچ جاتا ہے یہ کمپوزٹ میٹریل موثر انداز میں تحفظ فراہم کرسکتا ہے ۔ آئندہ کے لیے سائی تیجا نے ان کے الولعزم منصوبوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری خواہش ہے کہ کسی دن لاوا میں جھانکنے والا میں ہندوستان اور تلنگانہ کا پہلا شخص بن جاؤں اور مجھے اس چیالنج بھرے کام کو انجام دینے کی امید ہے ۔ برانڈ نام ’ ویرا ‘ رکھنے کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ میں نام ویرا رکھنا چاہتا ہوں جس کے معنی ہیں ہیرو یعنی بہادر ۔ اس سے اس بات کی اہمیت ہوتی ہے کہ کپڑے ہندوستان میں بنائے گئے اور مجھے امید ہے کہ لوگ اسے اختراع کی ایک علامت کے طور پر تسلیم کریں گے ۔ سائی تیجا کا یہ پراڈکٹ ’ ٹارڈیگریڈ ‘ دیسی اختراع کی ایک علامت ہے اور یہ انسانوں کیلئے ’ شدید چیالنجس ‘ پر قابو پانے میں معاون ہے ۔۔