حیدرآباد کے اطراف کور اربن علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح میں تیزی سے کمی : سنٹرل رپورٹ

   

حیدرآباد ۔ 4 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد اور اس کے اطراف کور اربن ریجن علاقہ میں زیر زمین پانی کی صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے ۔ اضلاع حیدرآباد ، میڑچل ۔ ملکاجگیری اور رنگاریڈی میں زیر زمین پانی کی سطح میں بتدریج کمی ہورہی ہے کیوں کہ پانی کا استعمال ، ریچارج سے زیادہ ہے ۔ ان حقائق کا انکشاف گراونڈ واٹر ریسورسیس اسیسمنٹ رپورٹ 2025 میں کیا گیا جسے سنٹرل گراونڈ واٹر بورڈ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے ۔ شہر حیدرآباد اور اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں ’ بڑے کمرشیل کامپلکس ‘ ہمہ منزلہ عمارتوں اور سی سی سڑکوں کا بہت اضافہ ہوا ہے ۔ اس کی وجہ بارش کا پانی زمین کے اندر جانے کے مواقع بہت کم ہوگئے ہیں ۔ اس کے علاوہ مٹی کی نوعیت سے بھی جہاں پہاڑ اور چٹانوں کی پرتیں ہیں ، بارش کا پانی زمین میں جانا مشکل ہوگیا ہے ۔ حیدرآباد ڈسٹرکٹ میں 16 منڈلس ہیں جن میں آٹھ منڈلس زیر زمین پانی کے حد سے زیادہ استعمال کے زمرہ میں ہیں جہاں زیر زمین پانی کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کی صورتحال چارمینار ، عنبر پیٹ ، گولکنڈہ ، آصف نگر ، سعید آباد ، خیریت آباد ، امیر پیٹ اور حمایت نگر منڈلس میں دکھائی دیتی ہے ۔ مزید سات منڈلس کریٹیکل زمرہ میں ہیں ۔ ملک پیٹ ، بنڈلہ گوڑہ ، بہادر پورہ ، مشیر آباد ، نامپلی ، شیخ پیٹ اور سکندرآباد منڈلس اس فہرست میں ہیں ۔ صرف ترملگیری منڈل سیمی ۔ کریٹیکل زمرہ میں ہے ۔ یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ ضلع میں کوئی بھی منڈل مکمل محفوظ حالت میں نہیں ہے ۔ میڑچل ۔ ملکاجگیری ڈسٹرکٹ کے 18 منڈلس میں چار منڈلس پانی کے حد سے زیادہ استعمال کرنے کے زمرہ میں ہیں ۔ بالانگر ، کوکٹ پلی ، قطب اللہ پور اور ملکاجگیری منڈل میں زیر زمین پانی کا بہت زیادہ استعمال کرنے کو ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ چنتل ، کیسرا اور باچوپلی منڈلس تشویشناک زمرہ میں ہیں ۔ الوال ، میڑچل اور گھٹیکیسر منڈلس نیم تشویشناک زمرہ میں ہیں ۔ جب کہ مابقی منڈلس محفوظ حالت میں ہیں ۔ رنگاریڈی ڈسٹرکٹ میں 27 منڈلس ہیں ۔ چودھر گوڑہ ، سیری لنگم پلی اور سرور نگر جیسے منڈلس پانی کے حد سے زیادہ استعمال کے زمرہ میں ہیں ۔ منڈلس جیسے آمنگل ، ابراہیم پٹنم ، یاچارم ، تالا کونڈہ پلی ، کتور ، معین آباد ، کندوکورو اور راجندر نگر سیمی ۔ کریٹیکل زمرہ میں ہیں ۔ اگرچیکہ مابقی 14 منڈلس فی الوقت محفوظ ہیں تاہم ماہرین نے انتباہ دیا کہ اگر خصوصی اقدامات نہیں کئے گئے تو ان منڈلس میں مستقبل میں صورتحال خراب ہونے کا امکان ہے ۔ گراونڈ واٹر ریچارج کے مقابل استعمال کی سطح کی بنیاد پر سنٹرل گراونڈ واٹر بورڈ نے علاقوں کی چار زمروں میں درجہ بندی کی ہے ۔ سنٹرل رپورٹ کی اساس پر ماہرین نے مشورہ دیا کہ ریاستی حکومت ، جی ایچ ایم سی ، جواہر نگر میونسپل کارپوریشن ، بڑنگ پیٹ میونسپل کارپوریشن اور دیگر مجالس مقامی کو بارش کے پانی کے تحفظ ، پانڈس کی بحالی اور رین واٹر ہاروسٹنگ سسٹمس پر عمل درآمد جیسے اقدامات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے ۔۔ A/m/b