حیدرآباد کے پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ کی تعمیر میں زبردست تیزی

   

دارالشفاء، شاہ علی بنڈہ، مغل پورہ اور چندرائن گٹہ میں سڑکوں کی کشادگی اور برقی لائن کی منتقلی کیلئے ٹنڈرس طلب
حیدرآباد ۔ 9 ستمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کے تاریخی اور گنجان آبادی والے علاقے پرانے شہر میں میٹرو ریل کوریڈور کی توسیع اور دیگر ترقیاتی کام اب انتہائی تیز رفتار اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ حیدرآباد حیدرآباد ایئرپورٹ میٹرو لمیٹیڈ (HML) اور حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ (HRML) کے اعلیٰ عہدیداروں نے حصول اراضی، سڑکوں کو چوڑا کرنے، بی ٹی روڈس کی تعمیر اور برقی و دیگر یوٹیلٹی لائینوں کی بڑے پیمانے پر منتقلی کے لئے کروڑوں روپے کے متعدد ٹنڈر نوٹیفکیشن جاری کردیئے ہیں۔ میٹرو کے ایڈیشل ایم ڈی اجیت ریڈی نے جائزہ اجلاس کے دوران حکام کو احکامات جاری کئے ہیں کہ تمام تر ابتدائی اور تکنیکی کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ مین ٹریک اور اسٹیشنس کی تعمیر میں کوئی تاخیر کی گنجائش بڑھانے کے لئے HMRL نے دارالشفاء تا جگناتھ مندر تک سڑک کی توسیع کرنے اور بی ٹی روڈ کی تعمیر و بہتری کے لئے 9.85 کروڑ روپے کا ٹنڈر جاری کیا ہے۔ بولی جمع کروانے کی آخری تاریخ 22 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ شاہ علی بنڈہ جنکشن تا چندرائن گٹہ تک بی ٹی روڈ اور سڑک کی کشادگی کے کاموں کے لئے 9.20 کروڑ روپے کا ٹنڈر نوٹیفکیشن شائع ہوا ہے جس کے لئے بھی بولی جمع کرنے کی آخری تاریخ 22 ستمبر 2026 طے کی گئی ہے۔ پنجہ شاہ تا سلطان شاہی روڈ 11KV زیر زمین پاور کیبلس بچھانے پر 1.20 کروڑ روپے خرچ ہوں گے جس کے لئے 15 ستمبر 2026 تک درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ شاہ علی بنڈہ چوراہے سے شاہ غوث ہوٹل تک سڑک کے دونوں جانب DTR – 11KV رنگ مین یونٹس HEC/LDC (RMU) کھمبوں اور پاور ریگولیٹرس کی منتقلی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کام کی تخمینہ لاگت 9.89 لاکھ روپے ہے اور بولی کی آخری تاریخ 15 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ ایم جی بی ایس سے چندرائن گٹہ تک 7.5 کیلو میٹر مجوزہ اولڈ سٹی میٹرو روٹ کی تعمیر کے لئے جملہ 888 جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ میٹرو حکام نے کارروائی کرتے ہوئے 833 جائیدادیں حاصل کرلی ہیں اور انہیں زمین بوس کرکے میٹرو کے راستے کے لئے کلیئر کیا جارہا ہے۔ حکام کے مطابق ماباقی جائیدادوں کے حصول کا عمل بھی جلد از جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب چیف منسٹر کی ہدایات پر ریاستی حکومت کے چیف سکریٹری سنجے جاجو حیدرآباد میٹرو کے دوسرے مرحلے کی حتمی منظوری کے لئے مرکزی حکومت اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ریاست کے اعلیٰ عہدیدار نئی دہلی میں مرکزی وزراء سے ملاقاتیں کرکے پراجکٹ کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ جنرل کنسلٹنسی (GC) کی تقرری کے لئے پہلے ہی ٹنڈرس طلب کئے جاچکے ہیں اور حکام کو قوی امید ہے کہ مرکز سے منظوری ملتے ہی مین میٹرو تعمیراتی کام کے ٹنڈرس جاری کردیئے جائیں گے اور یہ فائیل جلد مرکزی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ 2؍F m/b/