حیدرآبادی عوام کو سلام بی جے پی کا مقابلہ صرف کانگریس کرسکتی ہے ، دیگر جماعتیں بھاجپا کی رشتہ دار

   

مرکز میں مودی کی اور ریاست میں کے سی آر کی الٹی گنتی شروع ۔ کانگریس پارٹی اصل شیر ‘ جئے رام رمیش
حیدرآباد ۔ 5 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے سینئیر قائد سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے کہا کہ تلنگانہ میں بھارت جوڑو یاترا سب سے زیادہ کامیاب رہی ہے ۔ حیدرآباد کا جلسہ عام تاریخی رہا ہے ۔ تاریخی چارمینار کے دامن میں پہونچ کر راہول گاندھی نے کانگریس پارٹی شیر ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ راہول کا والہانہ خیر مقدم کرنے پر وہ حیدرآباد کے عوام کو سلام اور اظہار تشکر کرتے ہیں ۔ جوگی پیٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کا 2 ماہ قبل آغاز ہوا ہے ۔ راہول گاندھی کنیا کماری ، ٹاملناڈو ، کرناٹک ، آندھرا پردیش سے گذرکر 8 دن قبل تلنگانہ میں داخل ہوئے ہیں ۔ ہر ریاست میں عوام نے شاندار خیر مقدم کیا ۔ تاہم حیدرآباد کی جو شام تھی وہ ناقابل فراموش ہے ۔ راہول گاندھی نے چارمینار کے دامن میں اسی مقام پر قومی پرچم لہرایا جہاں 19 اکٹوبر 1990 کو سدبھاونا یاترا شروع کرکے راجیو گاندھی نے قومی پرچم لہرایا تھا ۔ حیدرآباد کے عوام نے بڑے پیار و محبت سے راہول گاندھی کا استقبال کیا ہے ۔ ٹینک بنڈ پر جو جلسہ منعقد کیا گیا وہ بھی اب تک کا سب سے کامیاب جلسہ تھا ۔ جدھر بھی نظر پہونچتی صرف سروں کا سمندر دکھائی دے رہا تھا ۔ تلنگانہ عوام نے راہول گاندھی کا دل سے خیر مقدم کیا ۔ سارے تلنگانہ میں بھارت جوڑو یاترا بہت کامیاب رہی ۔ حیدرآباد میں چند لوگ اپنے آپ کو شیر قرار دیتے ہیں مگر راہول گاندھی چارمینار کے دامن میں پہونچ کر کانگریس سب سے بڑا شیر ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ جہاں کانگریس پہونچتی ہے وہاں دوسرے شیروں کیلئے خطرہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ جئے رام رمیش نے ٹی آر ایس ، تلگو دیشم ، وائی ایس آر کانگریس کے علاوہ دیگر علاقائی جماعتوں کی بی جے پی سے میچ فکسنگ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مجلس کی بھی بی جے پی سے بڑی میچ فکسنگ ہے ۔ تاہم کانگریس بغیر کسی ڈر و خوف دلیری سے بی جے پی کا مقابلہ کررہی ہے ۔ کبھی اصولوں اور پالیسیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو سے ملک میں مودی اور تلنگانہ میں کے سی آر کی الٹی گنتی شروع ہوئی ہے کیونکہ چیف منسٹر تلنگانہ اور وزیراعظم ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں ۔ کے سی آر دہلی میں مودی کی مدد کرتے ہیں اور مودی تلنگانہ میں کے سی آر کی مدد کرتے ہیں ۔ راہول کی یاترا سے تلنگانہ کانگریس میں نئی جان پیدا ہوئی ہے ۔ پارٹی قائدین میں اتحاد ہوا ہے اور کارکنوں کو نیا حوصلہ ملا ہے ۔ راہول گاندھی نے تلنگانہ میں سماج کے تمام طبقات ، کسانوں ، مزدوروں ، طلبہ ، ٹریڈ یونین اور دانشوروں کے وفود سے ملاقات کی ۔ اس کے علاوہ سینکڑوں شہریوں سے ملاقات کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی وجہ سے علحدہ تلنگانہ تشکیل پائی ہے ۔ بیشک ٹی آر ایس و دیگر جماعتوں نے بل کی تائید کی ہے ۔ سونیا گاندھی نے سیاسی فائدہ سے زیادہ عوام کے جذبات کا احترام کیا ہے ۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ ایر کنڈیشنڈ ہاسپٹل روم میں بھوک ہڑتال کرنے کا چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کیا ۔ کانگریس کیلئے یہ سخت فیصلہ تھا پھر بھی سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ تشکیل دینے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ کانگریس کے سینئیر قائد نے چیف منسٹر کے سی آر کو آٹھویں نظام اور وزیراعظم مودی کو تغلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس دونوں شاہی حکومتوں کے خلاف جدوجہد کررہی ہے ۔ تلنگانہ اور مرکزی حکومتیں منتخب عوامی نمائندوں کو خریدنے پر یقین رکھتی ہے ۔ اقتدار کا بیجا استعمال کرکے میڈیا ، عدلیہ ‘ بیوروکریسی کو دھمکایا جارہا ہے ۔ ای ڈی ، انکم ٹیکس ، سی بی آئی اور دوسرے دستوری اداروں کا بیجا استعمال کیا جارہا ہے ۔ مخالفین کو ہراساں و پریشان کیا جارہا ہے ۔ کانگریس نے اظہار خیال کی جو آزادی ہے اس کا ہمیشہ احترام کیا ہے ۔ میڈیا کو مکمل آزادی ہے ۔ ن