حیدرآباد میں انسانی اسمگلنگ کا کلیدی ملزم گرفتار

   

شہر کی این آئی اے عدالت میں پیشکشی کیلئے مغربی بنگال سے منتقلی ،قانونی تحویل کا حصول

نئی دہلی /13 ڈسمبر ( پی ٹی آئی ) قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) نے حیدرآباد میں انسانی اسمگلنگ ( بردہ فروشی ) کے مقدمہ میں ایک کلیدی ملزم کو گرفتار کرلیا ۔ مغربی بنگال کے ضلع پرگنہ کے ساکن 52 سالہ روح الامین ڈھالی کو گذشتہ روز گرفتار کیا گیا اور اس کے قبضہ سے ایک ثبوت برآمد کئے گئے ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ حیدرآباد میں انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلانے کیلئے بنگلہ دیش سے فنڈس وصول کر رہا تھا ۔ ملزم کو آج باسر ہاٹ عدالت نے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کے اجلاس پر پیش کیا گیا جہاں سے منتقلی کی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد حیدرآباد لایا جارہا ہے جہاں وہ این آئی اے کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) روح الامین کے قبضہ سے ڈبل سِم کارڈ کا ایک موبائل ہینڈ سٹ ضبط کیا ۔ ان دو سم کارڈ میں ایک سم کارڈ بنگلہ دیش کا ہے دیگر 9 سم کارڈ بھی برآمد ہوئے جن میں 4 بنگلہ دیش کے ہیں ۔ علاوہ ازیں اے ٹی ایم رقم نکالنے کیلئے استعمال کئے جانے والے دو کارڈ اور دس ہزار بنگلہ دیشی کرنسی نوٹ برآمد ہوئے ۔ اس کے قبضہ سے برآمد ڈیری میں بنگلہ اور ہندوستان کے کئی فون نمبرس اور شناختی کارڈ شامل ہیں ۔ این آئی اے مطابق یہ مقدمہ مغربی بنگال اور بنگلہ دیش سے کئی افراد کے استحصال اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ہندوستان کے مختلف شہروں بشمول حیدرآباد میں استعمال سے متعلق ہیں ۔ دیگر تین ملزمین محمد یوسف خان ، اس کی بیوی بیٹھی بیگم اور سجیب پہلے ہی گرفتار کئے جاچکے ہیں ۔ انہیں حیدرآباد کے ایک جسم فروشی کے اڈہ سے اپریل 2019 میں پکڑا گیا تھا ۔ یہ ملزمین حیدرآباد اور دیگر مقامات پر جسم فروشی کے اڈے چلا رہے تھے ۔ این آئی اے عہدیداروں نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ جسم فروشی کیلئے انسانی اسمگلنگ کیلئے عادی مجرمین ہیں اور ان کے خلاف یہاں پہلی شکایت حیدرآباد کے چھتری ناکہ پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی تھی ۔