حیدرآباد میں بارش کی صورت میں 89 نئے متاثرہ علاقوں کی نشاندہی

   

پانی جمع ہونے سے روکنے اقدامات، انجینئرس کی نگرانی میں ہر زون میں آلات کی سربراہی
حیدرآباد 16 جون (سیاست نیوز) مانسون کے آغاز کے ساتھ ہی حیدرآباد کے کئی علاقوں میں پانی کی نکاسی کا مسئلہ عوام کے لئے باعث تکلیف بن چکا ہے۔ مانسون کی آمد سے قبل ہمیشہ جی ایچ ایم سی عہدیدار تمام تر تیاریوں کا دعویٰ کرتے ہیں اور پانی جمع ہونے والے علاقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے وہاں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ دو دنوں میں بارش کے نتیجہ میں شہر کے کئی علاقے مکانات اور دوکانات کے لئے نقصان کا باعث بن چکے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے جاریہ سال 89 ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں بارش کی صورت میں پانی جمع ہوسکتا ہے۔ کارپوریشن نے مذکورہ علاقوں میں پانی کی نکاسی کا مستقل انتظام کرنے کا دعویٰ کیا۔ انجینئرنگ ونگ کے عہدیداروں نے 30 مقامات کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ زمرہ A کے تحت سنگین نوعیت کا امکان ہے جبکہ 6 مقامات پر معمولی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ زمرہ B کے تحت 32 اور زمرہ C کے تحت 27 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ عہدیداروں کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلہ 52 فیصد علاقوں کا اضافہ ہوا ہے جہاں بارش کی صورت میں پانی جمع ہوسکتا ہے۔ حکام نے پمپ کے ذریعہ پانی کی نکاسی کا فیصلہ کیا ہے اور ہر زون میں ایمرجنسی ٹیموں کو تمام ضروری آلات کے ساتھ تیار رکھا گیا۔ گزشتہ سال 189 مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں سے 44 سنگین نوعیت کے تھے۔ عہدیداروں کے مطابق 12 انجینئرس بشمول سپرنٹنڈنٹ انجینئرس اور ایکزیکٹیو انجینئرس کو پانی کی نکاسی کے متبادل انتظامات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ر

جی ایچ ایم سی نے نالوں کی توسیع اور صفائی کا کام تاخیر سے شروع کیا جس کے نتیجہ میں بارش کے آغاز کے ساتھ ہی عہدیداروں کو یہ کام روکنا پڑا۔ ر