پرانے شہر کیساتھ سوتیلا سلوک، اسمارٹ سٹی میں ترقی کہاں؟
حیدرآباد۔26۔جون(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے اسمارٹ سٹی میں شائد شہر حیدرآباد کا کوئی علاقہ شامل نہیں ہے کیونکہ شہر حیدرآباد کے نواحی علاقو ںمیں رات دیر گئی تک تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دی جارہی ہے اور دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ حکومت نے شہر حیدرآباد کو اسمارٹ سٹی کے طور پر ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان اقدامات کے تحت ہی رات دیر گئے تجارتی سرگرمیاں بالخصوص اشیائے خورد ونوش کی فروخت عمل میں لائی جا رہی ہے۔ مادھاپور ‘ مائینڈ اسپیس کے علاوہ گچی باؤلی کے بیشتر علاقوں میں رات دیر گئے تجارتی سرگرمیوں کو اسمارٹ سٹی کے نام پر اجازت دی جارہی ہے اور اس میں کوئی خلل پیدا نہیں کیا جا رہاہے جبکہ شہر حیدرآباد کے مرکزی علاقوں اور پرانے شہر میں رات 12 بجے سے قبل ہی پولیس کی جانب سے نہ صرف تجارتی اداروں بلکہ میڈیکل شاپس کو بھی بند کروانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور میڈیکل شاپس مالکین کی جانب سے اعتراض پر کہا جا رہاہے کہ پولیس رات کے اوقات میں صرف کیمسٹ کی دکانات کو کھلا رکھنے کی اجازت دے سکتی ہے اور اگر کسی میڈیکل شاپ پر ایک صابن یا شیمپو بھی فروخت کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں انہیں بند کروایا جائے گا۔دنیا بھر میں جہاں کہیں شہروں کو اسمارٹ سٹی کے طور پر ترقی دی گئی ہے ان شہروں میں 24X7 بازاروں کو کھلا رکھنے کے علاوہ رات کے کسی بھی پہر میں اشیائے ضروریہ اور اشیائے خورد و نوش کی دستیابی یقینی بنائی جاتی ہے لیکن شہرحیدرآباد میں کے دو علحدہ کمشنریٹ حدود میں دو مختلف قوانین پر عمل کیا جا رہا ہے۔ مادھا پور‘ گچی باؤلی ‘ مائینڈ اسپیس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں رات دیر گئے تجارتی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں جبکہ شہر حیدرآباد کے کمشنریٹ کے حدود میں 12بجنے سے قبل پولیس کی جانب سے ریستوراں اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو بند کروانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو کہ شہر حیدرآباد کے ساتھ سوتیلے رویہ کے مترادف ہے۔ تاجرین کا کہناہے کہ رات کے اوقات میں تجارتی سرگرمیوں کو بند رکھنے کے سلسلہ میں پولیس عہدیدارو ںکا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ رات دیر گئے کاروباری سرگرمیاں جاری رہنے کی صورت میں لا اینڈ آرڈر کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جبکہ شہر سے چند کیلو میٹر کے فاصلہ پر رات بھر کاروبار نہ صرف تجارتی اداروں بلکہ ٹھیلہ بنڈیوں اور فٹ پاتھ پر باضابطہ کرسی ٹیبل ڈال کر کیا جا رہاہے لیکن اب تک کوئی لاء اینڈ آرڈر کے مسائل پیدا نہیں ہوئے ۔ہوٹل مالکین و تاجرین کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار و ملازمین کا کام ہے کہ وہ لاء اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے اقدامات کریں لیکن رات کے اوقات میں کاروبار بند کرواتے ہوئے اسمارٹ سٹی کے طور پر حیدرآباد کو ترقی دیا جانا ممکن نہیں ہے اسی لئے شہری پولیس انتظامیہ کے اس فیصلہ کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کے ذمہ داروں کو غور کرنا چاہئے کیونکہ رات دیر گئے کوئی مسافر شہر کی سڑکوں پر نکلتا ہے اور کوئی شئے خریدنی ہوتی ہے تو شہر میں کوئی ایک جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں اسے کوئی چیز دستیاب ہوجائے ۔م