حیدرآباد ۔6۔فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری عہدیداروں کو اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ خانگی جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کریں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اس سلسلہ میں واضح طور پر قوانین موجود ہیں۔ رجسٹریشن ایکٹ کے سیکشن 22-A کے خلاف عہدیداروں کی جانب سے کئے گئے اقدامات غیر قانونی تصور کئے جائیں گے۔ ملکاجگری ضلع کے باچو پلی میں 1.26 ایکر اراضی کو حکام نے دھرانی پورٹل پر ممنوعہ فہرست میں شامل کردیا۔ اس فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے ایس وینکٹ سبیا نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ جسٹس سی وی بھاسکر ریڈی نے درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار نے یہ اراضی قانونی طور پر خریدی ہے اور 1992 میں اسے ریگولرائیز کیا گیا۔ اس اراضی کو ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ درست نہیں ہے جبکہ رجسٹریشن فیس اور دیگر امور کیلئے 30.35 لاکھ جمع کئے گئے۔ درخواست گزار نے کہا کہ چیف کمشنر لینڈ ایڈمنسٹریشن نے ایک شخص کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے رجسٹریشن کو روکنے کے احکامات جاری کردیئے۔ کسی نوٹس کی اجرائی کے بغیر ہی یہ کارروائی کی گئی جو رجسٹریشن ایکٹ کے خلاف ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عہدیداروں کو خانگی اراضیات کے بارے میں فیصلہ کا کوئی اختیار نہیں۔ جسٹس بھاسکر ریڈی نے رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ اندرون چار ہفتے رجسٹریشن سے متعلق احکامات جاری کریں۔1