خانگی اسکولوں میں فیس کے نام پر لوٹ کھسوٹ ، جن سنگھرش کا احتجاج

   

لیٹ فیس اور اضافی جرمانہ کے نام پر 5000 روپئے تک وصول کئے جارہے ہیں، وزیر اعلیٰ اور ڈسٹرکٹ آفیسر کو میمورنڈم

دہرادون: اتراکھنڈ کے دہرادون ضلع کے وکاس نگر میں چہارشنبہ کے روز جن سنگھرش مورچہ کے کارکنوں نے پرائیویٹ اسکولوں میں من مانی فیسوں کے خلاف احتجاج کیا اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ونود کمار کو وزیر اعلیٰ کے نام ایک میمورنڈم سونپا۔مورچہ کے صدر، سابق وزیرمملکت رگھوناتھ سنگھ نیگی نے کہا کہ اگرچہ ریاست بھر میں زیادہ تر نامور پرائیویٹ اسکول لیٹ فیس کے نام پر جرمانہ (جزیہ ٹیکس) وصول کرتے ہیں، لیکن ڈی پی ایس جی کہلانے والے پرائیویٹ اسکولس لیٹ فیس کے نام پر 50 روپے روزانہ اور ایک ماہ کی مدت کے بعد، اضافی جرمانہ 5000 روپے لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام اس کھلی لوٹ کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ۔ والدین خوف کی وجہ سے آواز اٹھانے سے قاصر ہیں۔ لوٹ پاٹ کے مراکز بن چکے یہ پرائیویٹ اسکول اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اسکول مالکان کی حساسیت بالکل مردہ ہو چکی ہے ۔ دیگر معروف اسکول بھی لیٹ فیس وصول کرنے کے معاملے میں پیچھے نہیں ہیں۔سابق وزیر مملکت مسٹرنیگی نے کہا کہ متوسط طبقے اور غریب والدین اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اچھی تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے ان پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھاتے ہیں، لیکن کسی بیماری، حادثہ، ملازمت میں کساد بازاری، شادی وغیرہ جیسے ناگہانی اخراجات کی وجہ سے فیس جمع کرنے میں کچھ تاخیر ہوجاتی ہے ۔ جس کا فائدہ اٹھانا یہ پرائیویٹ اسکول اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ اسکول دو تین ماہ کی فیس ایڈوانس میں جمع کراتے ہیں۔ جس پر کوئی علیحدہ سود یا انعام نہیں دیا جاتا لیکن اگر فیس دو دن کی بھی تاخیر سے ہو تو جرمانہ وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیر تعلیم اور متعلقہ حکام کو تنبیہ کی کہ وہ اس کا نوٹس لیں بصورت دیگر آرپار کی لڑائی ہوگی۔مظاہرے میں مورچہ کے جنرل سکریٹری آکاش پنوار، وجے رام شرما، دلباغ سنگھ، محمد اسد، سلیم مجیب الرحمن، ایم اے صدیقی، اشوک چنڈوک، آر پی سیموال، گروچرن سنگھ، وکرم پال، سائرہ بانو، روپ چند، پروین شرما پنی، سدھیر گوڑ، سروج گاندھی، نریندر تومر، بھیم سنگھ بشٹ، گوری راوت وغیرہ موجود تھے ۔